مقبوضہ کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ سروس بحال

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں 18 ماہ کے طویل انتظار کے بعد بھارتی حکام نے فور جی انٹرنیٹ سروس بحال کردی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اے پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں 18 ماہ کے طویل انتظار کے بعد بھارتی حکام نے فور جی انٹرنیٹ سروس بحال کردی ہے۔ 5  اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اس کے بعد فور جی انٹرنیٹ سروسز وہاں پر مستقل بند تھیں جسے آج 550 دن کے طویل عرصہ کے بعد کھول دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس کھولنے کے ساتھ ساتھ پولیس حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ اس پابندی کے ہٹنے کے بعد سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے رہیں۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کو وہاں زمین کی ملکیت اپنے نام اور نوکریوں کے حقوق بھی دے دیئے تھے جس پر کشمیری عوام نے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ مواصلات پر پابندی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بیروزگار، نظام صحت تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام بھی ناکارہ ہو گیا تھا۔

عوام کے بھرپور احتجاج اور بھارت سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کے احتجاج کے پیش نظر بھارتی حکام نے ان پابندیوں میں تھوڑی نرمی کی تھی اور انٹرنیٹ سورسز جزوی طور پر بحال کردی تھی۔

گزشتہ سال جنوری میں حکام نے انتہائی سست رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں حکومت کی جانب سے منظور کردہ سوا کروڑ ویب سائٹس تک رسائی دی تھی۔

اس کے دو ماہ بعد سوشل میڈیا پر عائد پابندیاں بھی ختم کردی گئی تھیں لیکن تیز رفتار انٹرنیٹ سروس بحال نہیں کی گئی تھی ۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور 2019 میں طویل عرصے تک جیل میں رہنے والے عمر عبداللہ نے وادی میں فور جی انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔ دیگر افراد نے بھی اس پیشرفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے انٹرنیٹ کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔

News Code 1905151

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 2 =