ایران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی قرارداد کو مسترد کردیا

ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے کاظم غریب آبادی نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بورڈ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس کا مناسب وقت میں مناسب جواب دےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے کاظم غریب آبادی نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بورڈ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس کا مناسب وقت میں مناسب جواب دےگا۔

غریب آبادی نے کہا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تمام  رکن ممالک کی نسبت بہت بڑا تعاون کیا اور اپنے جوہری ادارے کے تمام دروازوں کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے لئے کھول رکھا ہے۔ ایران کے جوہری ادارے کا سالانہ 33 مرتبہ معائنہ کیا جاتا ہے۔

کاظم غریب آبادی نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی قرارداد ایران کے دشمن ممالک کی اطلاعات پر مبنی ہے جسے ایران رد کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری ادارے کی قراردادوں کو سیاسی اغراض و مقاصد پر نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہونا چاہیے ۔  انھوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ قرارداد ایسے ممالک نے پیش کی جن کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ۔

غریب آـادی نے کہا کہ ایران اس قرارداد کو مردود سمجھتا ہے کیونکہ یہ قرارداد بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے قوانین سے خارج اور ایران کے دشمنوں کی ایما پر تیار کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے دوہرے معیار پر بھی افسوس ہے۔ ایران اس قرارداد کا مناسب وقت میں مناسب جواب دےگا۔ واضح رہے کہ تین یورپی ممالک نے ایران کے خلاف قرارداد پیش کی جس کے حق میں آسٹریلیا، فرانس ، جرمنی ، سعودی عرب، کویت، مراکش ، برطانیہ اور امریکہ سمیت 25 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس نے اس قرار داد کے خلاف ووٹ دیا اور 7 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

News Code 1901024

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 3 =