عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد امریکہ اور یورپ کی تسلط پسندانہ پالیسی کا حصہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد امریکہ اور یورپ کی تسلط پسندانہ پالیسی کا حصہ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد امریکہ اور یورپ کی تسلط پسندانہ پالیسی کا حصہ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی قرارداد ایران کے دشمن ممالک کی اطلاعات پر مبنی ہے جسے ایران رد کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری ادارے کی قراردادوں کو سیاسی اغراض و مقاصد پر نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہونا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ قرارداد ایسے ممالک نے پیش کی جن کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ۔

سید عباس موسوی نے کہا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تمام رکن ممالک کی نسبت بہت بڑا تعاون کیا اور اپنے جوہری ادارے کے تمام دروازوں کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے لئے کھول رکھا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان  نے کہا کہ ایران اس قرارداد کو مردود سمجھتا ہے کیونکہ یہ قرارداد بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے قوانین کی روح کے منافی اور ایران کے دشمنوں کی اطلاعات پر تیار کی گئی ہے۔

سید عباس موسوی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرف سے یہ قرارداد پیش کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرح برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل نہیں اور ان کا یہ اقدام افسوسناک اور مایوس کن ہے اور اس سے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔  واضح رہے کہ تین یورپی ممالک نے ایران کے خلاف قرارداد پیش کی جس کے حق میں آسٹریلیا، فرانس ، جرمنی ، سعودی عرب، کویت، مراکش ، برطانیہ اور امریکہ سمیت 25 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس نے اس قرار داد کے خلاف ووٹ دیا اور 7 ممالک  ہندوستان، پاکستان ، تھائی لینڈ ، نیجر، منگولیہ ، جنوبی افریقہ اور آذربائیجان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

News Code 1901027

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 5 =