نجران کے زلزلے سے ریاض پر لرزہ طاری / سعودی عرب پر خوف و ہراس چھا گیا

یمنی فورسز نے نجران کے علاقہ میں دفاعی آپریشن " نصر من اللہ " میں سعودی عرب کے فوجیوں پر مہلک اور کاری ضرب وارد کرکے سعودی عرب پر لرزہ طاری کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کی رپورٹ کے مطابق  یمنی فورسز نے نجران کے علاقہ میں دفاعی آپریشن " نصر من اللہ " میں سعودی عرب کے فوجیوں پر مہلک اور کاری ضرب وارد کرکے سعودی عرب پر لرزہ طاری کردیا ہے۔ یمنی فوج کے ترجمان  یحیی سریع کا کہنا ہے کہ یمن پر مسلط کردہ پانچ سالہ جنگ کے دوران یمنی فورسز نے یہ سب سے بڑا دفاعی آپریشن کیا ہے جس میں سعودی عرب کے ہزاروں فوجیوں کو ہلاک ، قید یا زخمی کردیا گیا ہے اس کارروائی میں سعودی عرب کے جنگی وسائل کو بھی بڑے پیمانے پر تباہ کیا گیا اور کچھ فوجی وسائل کو غنیمت  میں بھی لے لیا گیا ہے۔

یمن کے فوجی ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اس علاقہ میں ایک بڑی کارروائی کا منصوبہ بنایا تھا جسے ناکام بنانے کے لئے یمنی فوج نے بھی فوجی حکمت عملی کے تحت 15 اگست سے کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔  یمنی ذرائع کے مطابق یمنی فوج نے پیشقدمی کرنے کے بعد فوجی حکمت عملی کے تحت عقب نشینی کی اور دشمن کی فوج کو حملہ کرنے کا موقع فراہم کیا اور دشمن نے بھی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت سرمست ہوکربڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کردیا، لیکن یمنی فورسز نے انھیں اپنے محاصرے میں لیکر ہلاک، اسیر اور زخمی کردیا ۔ یمنی فوج کے مطابق اس بڑے آپریشن میں یمن کے میزائل اور ڈرون یونٹوں نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اس طرح یمنی فوج نے سعودی عرب کے کرائے کے مزدوروں پر واضح کردیا کہ یمن کو سعودی عرب کے فوجیوں اور اس کے کرائے کے فوجیوں کے لئے قبرستان بنادیا جائےگا۔ یمنی فورسز نے نجران میں ہونے والے آپریشن سے سعودی عرب پر لرزہ طاری کردیا ہے اور سعودی عرب کے تمام ناپاک اور بھیانک عزائم  کو " نصر من اللہ " آپریشن میں ناکام بنادیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے یمنی فوج کے " نصر من اللہ " آپریشن کو آرامکو آپریشن کے برابر قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس آپریشن میں 500 سے زائد سعودی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا گیا جبکہ سیکڑوں فوجیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں غیر سعودی فوجی بھی شامل ہیں۔ اس نے کہا کہ نصرمن اللہ آپریشن میں یمنی ڈرونز، میزائلوں اور تمام فوجی یونٹوں نے حصہ لیا اور اس آپریشن میں 500 کلو میٹر مربع علاقہ آزاد کرالیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ یمن پرمسلط کردہ جنگ میں یمن کا یہ سب سے بڑا دفاعی فوجی آپریشن تھا۔ جس میں سعودی عرب کے 500 فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا گیا ۔ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اپنے فراریا تسلیم  ہونے والے فوجیوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 200 سے زائد سعودی فوجی مارے گئے ہیں ۔ باخبر ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے 5000 فوجیوں ميں سے 2000 سے زائد فوجی گرفتار 500 سے زائد فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں باقی ماندہ فوجی فرار ہوتے ہوئے سعودی عرب کی بمباری میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں ۔ یمنی فوجی اہلکار اس آپریشن کو بقیق اور الخریص میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے مساوی قراردے رہے ہیں وہاں سعودی عرب کو بہت بڑا مالی نقصان ہوا جبکہ اس آپریشن میں سعودی عرب کے فوجی بڑی تعداد میں ہلاک ، زخمی اور اسیر ہوگئے ہیں۔ ایسے ہی اقدامات کو " نصر من اللہ " کہتے ہیں۔

ادھر یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے رکن محمد البخیتی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اگریمن کی امن و صلح کی تجویز کو قبول نہ کیا تو سعودی عرب کے فوجیوں اور ان کے کرائے کے فوجیوں کو نابود کردیا جائےگا۔

 البخیتی نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمنی فورسز اور قبآئل کے " نصر من اللہ آپریشن " نے واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کو یمن پر مسلط کردہ جنگ میں تاریخی اور عبرتناک شکست کا سامنا ہے اگر اس نے یمن کے نہتے عربوں پر ہوائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور یمنی قومی نجات حکومت کی صلح کی تجویز کو قبول نہ کیا تو سعودی عرب کے کرائے کے فوجیوں اور ان کے مزدوروں کو نابود کردیا جائےگا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اب اس بات کو دیکھنا ہے کہ کیا امریکہ، برطانیہ ، سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک  یمنی فوج کے " نصر من اللہ آپریشن کا الزام بھی ایران پر عائد کریں گے؟ کیونکہ انھوں نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات آرامکو پر حملے کا الزام بڑی آسانی اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ایران پر عائد کردیا تھا۔ تو کیا سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نجران میں آنے والے زلزلے کا الزام بھی ایران پر عائد کریں گے؟

News Code 1894200

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 6 =