ایران نے القاعدہ کے رہنماؤں کے ایران میں موجودگي کے الزامات کو رد کردیا

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کی طرف سے ایران میں القاعدہ کے رہنماؤں کی موجودگی کے الزام کو جھوٹا ، مضحکہ خیز اور بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ محمد بن سلمان خود القاعدہ کے اہم رکن ہیں جو شام، عراق اور یمن میں القاعدہ کی بھر پور مدد کررہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کی طرف سے ایران میں  القاعدہ کے رہنماؤں کی موجودگی کے الزام کو جھوٹا ، مضحکہ خیز اور بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ محمد بن سلمان خود القاعدہ کے اہم رکن ہیں جو شام، عراق اور یمن میں القاعدہ کی بھر پور مدد کررہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد  بن سلمان نے دورہ امریکہ کے سلسلے میں حقائق کو چھپانے کی ماہرانہ کوشش کررہے ہیں لیکن دنیا  اور امریکی عوام اچھے طریقہ سے جانتے ہیں کہ سعودی دہشت گردی کا اصلی مرکز ہے اور سعودی عرب کی حکومت دنیا میں خطرناک دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کررہی ہے ۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ سعودی عرب امریکی صدر ٹرمپ کو بڑے پیمانے پر رشوت دیکر 11 ستمر کے واقعہ کو چھپانے کی مذموم کوشش کررہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان جنگ کے دوران سعودی عرب کے پروردہ دہشت گرد غیر قانونی طور پر ایران میں وارد ہوتے تھے لیکن گرفتاری کے خوف سے وہ افغانستان فرار کرجاتے تھے۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ سعودی عرب کے ولیعہد بادشاہت کے تخت تک پہنچنے کے لئے ہر وسیلہ سے امریکہ کی حمایت  حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ بن سلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت براہ راست دہشت گردانہ واقعات  خاص طور پر 11 ستمبر کے واقعہ میں ملوث  ہے ۔

News Code 1879493

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 9 =