سعودی عرب کے ولیعہد کی کرپشن کا پردہ فاش /محمد بن سلمان نےایک تصویر 45 کروڑ ڈالر میں خریدی

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کی کرپشن اورشاہ خرچی کا پردہ ایسے وقت فاش ہوا ہے جب خود ولیعہد نےسعودی عرب میں 300 سے زائد سعودی شہزادوں ، وزراء اور سعودی حکام کے خلاف بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور غبن کی تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کی کرپشن اورشاہ خرچی کا پردہ ایسے وقت فاش ہوا ہے جب خود ولیعہد نےسعودی عرب میں 300 سے زائد سعودی شہزادوں ، وزراء اور سعودی حکام کے خلاف بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور غبن کی تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے۔سعودی عرب کے شاہی خاندان کی جانب سے شاہ خرچی کی ایک اور بہت بڑی مثال اس وقت سامنے آئی ہے جب اٹلی کے مشہور مصور اور جینیئس لیونارڈو ڈاونِسی کی ایک تصویر 45 کروڑ ڈالر میں خریدی گئی ہے۔ اس پینٹنگ کا عنوان ’’سالویٹر منڈی‘‘ یعنی دنیا کا نجات دہندہ اور یہ مشہور مصور، سائنسداں اور زیرک لیونارڈو ڈاونسی نے 1500 عیسوی کے لگ بھگ میں بنائی تھی۔ پینٹنگ کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ایک قریبی دوست شاہ بدر بن محمد بن عبداللہ نے 15 نومبر کو کرسٹی نیلام گھر نیویارک سے خریدا تھا جس کے لیے 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم دی گئی تھی لیکن اب بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تصویر انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے خریدی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان ہی اس پینٹنگ کے اصل خریدار ہیں۔ یہ قیمتی ترین تصویر اس وقت خریدی گئی ہے جب خود ولیعہد محمد بن سلمان نےسعودی عرب میں 300 سے زائد سعودی شہزادوں، وزراء اور حکام   کے خلاف بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور غبن کی تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے جس کا حجم کم سے کم 100 ارب ڈالر بتایا جارہا ہے۔ ان افراد میں بڑے تاجر، صنعت کاروں سمیت شاہی خاندان کے کئی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب کے ناپختہ اور غیر سنجیدہ ولیعہد محمد بن سلمان خود را فضیحت دیگران را نصیحت کے مصداق بن کر سعودی عرب کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جاررہے ہیں ۔ سعودی عرب کے بادشاہ اور خادم الحرمین نے امریکہ کے بدنام زمانہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ڈانس کرکے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کے اسباب فراہم کئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔

News Code 1877223

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha