حقیقی اسلام کے مد مقابل امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کا شوم مثلث

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے حقیقی اسلام کے مقابلے میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے شوم مثلث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ داعیشیوں اور وہابی تکفیریوں کا اسلام حقیقی اسلام نہیں بلکہ ان کا اسلام امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے ںظریات پر مشتمل ہے جبکہ حقیقی اسلام یمن، شام اور عراق میں آگے بڑھ رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے نامہ نگار کی رپورٹ کےمطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں روزہ دار مؤمنین نے شرکت کی ۔ نماز جمعہ کے خطیب نے حقیقی اسلام کے مقابلے میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے شوم مثلث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ داعیشیوں اور وہابی تکفیریوں کا اسلام حقیقی اسلام نہیں بلکہ ان کا اسلام امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے ںظریات پر مشتمل ہے جبکہ حقیقی اسلام یمن، شام اور عراق میں آگے بڑھ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہابی تکفیریوں کے اسلام کے فروغ میں سعودی عرب کے مال و زر ، اسرائیل کی پالیسی اور امریکہ کی طاقت اور قدرت شامل ہے۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ سامراجی طاقتیں سعودی عرب کے توسط سے حقیقی اسلام کو صفحہ ہستی سے محو کرنا چاہتی ہیں کیونکہ حقیقی اسلام سے ہی عالمی سامراجی طقاتوں کو خطرہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کی پہلے سے کہیں زيادہ ضرورت ہے لہذا سنی اور شیعہ مسلمانوں کو متحد ہوکر عالمی سامراجی طاقتوں اور ان کے وہابی تکفیری ایجنٹوں کے شوم منصوبوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ بحرین میں شیعہ مسلمانوں پر بحرینی حکومت کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور اب بحرینی حکومت نے رمضان المبارک میں شیعہ مسلمانوں کی مساجد کو بھی بند یا انھیں شہید کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو بحرینی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے اور امریکہ کے مزدور اور نوکر عرب حکمرانوں کو مسلمانوں پر ظلم و ستم روا رکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے پاکستان مں شیعوں کے قتل عام کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے شیعہ اور سنی علماء نے باہمی اتحاد کے ساتھ پرامن احتجاج شروع کیا ہے اور پاکستانی حکومت کو شیعہ مسلمانوں کے تحفظ کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات کو عمل میں لانا چاہییں۔

News Code 1864810

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha