باراک اوبامہ نے لیبیا میں اپنی بڑي غلطی تسلیم کرلی

امریکی صدر باراک اوبامہ نے لیبیا میں اپنی سب سے بڑی صدارتی غلطی تسلم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لیبیا کے صدرکرنل معمر قذافی کی حکومت کے گرائے جانے کے بعد ملک کے مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی، جس کی وجہ سے ملک میں شورش اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ملکر معمر قذافی کو قتل کروا دیا تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فاکس نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوبامہ نے لیبیا میں اپنی سب سے بڑی صدارتی غلطی تسلم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لیبیا کے صدرکرنل معمر قذافی کی حکومت کے گرائے جانے کے بعد ملک کے مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی، جس کی وجہ سے ملک میں شورش اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ملکر معمر قذافی کو قتل کروا دیا تھا۔اوبامہ نے کہا کہ میری سب سے بڑی صدارتی غلطی لیبیا کی حکومت گرانے کیلئے مداخلت کرنا تھا، جسے وہ بہتر سمجھتے تھے، تاہم وہ اس کے بعد حالات کی درست منصوبہ بندی نہیں کر سکے۔خیال رہے کہ اوبامہ نے گذشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور سابق فرانسیسی رہنما نیکولاس سرکوزی کو لیبیا میں بمباری مہم کی سربراہی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

خیال رہے کہ معمر قذافی کو 2011 میں ملک میں ہونے والی بغاوت کے دوران قتل کردیا گیا تھا، جس کے بعد لیبیا بھر میں دہشت گردی اور انتشار پھیل گیا۔ عرب ذرائع کے مطابق امریکہ اسلامی ممالک میں اپنے شوم منصوبے سعودی عرب کے ذریعہ پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے لیبیا کے بعد شامکی صدر بشار اسد کا نمبر تھا لیکن بشار اسد کو ایران، حزب اللہ لبنان اور روس نے ملکر بچالیا ہے ورنہ امریکہ نے صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے اپنے اتحادیوں کو مکمل طور پر تیار کررکھا تھا لیکن سکیورٹی وکنسل میں روس نے امریکی قراردادوں کو ناکام بنادیا۔

News Code 1863235

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 3 =