مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان کے کئی دشمن ہیں۔اتوار کے روز لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا نے کہا کہ طالبان شدت پسندوں کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔
وزیر اعظم نے صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرحد میں طالبان شرپسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے فیصلے سے حکومتی اتحادیوں کو آگاہ کیا گیا تھا۔
آپریشن شروع کرنے سے قبل فوجی سربراہ نے ملکی سرحدوں، سوات، فاٹا اور سرحد کے دوسرے علاقوں کی بریفنگ دی اور تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایسے قبائلیوں سے معاہدے کئے جنہوں نے ہتھیار ڈال دیئے لیکن جب خلاف ورزی ہوئی تو پھر صوبائی حکومت اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے پاس فوجی آپریشن کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب لڑکیوں کے سکول جلائے گئے، لوگوں کو سرعام پھانسیاں دی گئیں، متبادل حکومتیں قائم ہوگئیں اور مذہبی اقلیت کے لوگ پشاور شہر سے اغوا کر لئے گئے تو کارروائی کرنا پڑی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر ایجنسی میں امریکہ کے دباؤ میں آپریشن شروع نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا ان کی قائد بینظیر بھٹو بھی دہشتگردی کا شکار ہوئی لہذا یہ ہم اپنی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنے ملک کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور ملک خودمختیاری، آزادی اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ