مہر خبررساں ایجنسی نے شین ہوا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس اور چین نے میزائل شیلڈ بنانے کے امریکی منصوبے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر دنیا کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں کو شدیددھچکا پہنچے گا۔ بیجنگ کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر آنے والے روسی صدر ڈمیٹری مڈویاڈوف اور چینی صدر ہو جِنتاؤ نے اس بارے میں ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیا ہے۔ روس اور چین نے میزائل شیلڈ کے امریکی منصوبے کی مذمت پہلے بھی کی ہے لیکن یہ پہلی بار ہے جب دونوں نے مشترکہ طور پر اس بارے میں بیان دیا ہے۔
امریکہ چیکوسلواکیہ میں ایک ریڈار مرکز اور پولینڈ میں میزائل شکن نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ ایران اور شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل حملے روکنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اس منصوبے کی وجہ سے امریکہ اور روس کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ امریکی میزائل شیلڈ کا استعمال اس کے خلاف ہوسکتا ہے۔
روسی اور چینی صدور کے مشترکہ بیان کے مطابق ایک بین الاقوامی میزائل سِسٹم بنانے اور دنیا کے بعض علاقوں میں اس کی تعیناتی کرنے سے دفاعی توازن اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچے گا۔
روس اور چین کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ سے بین الاقوامی سطح پر دنیا کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان ہوگا۔
آپ کا تبصرہ