مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس نے ایک بیان میں کہا کہ نوبل انعام کے لیے ناوی پیلای کا انتخاب بین الاقوامی جرائم کے مرتکب افراد کو جواب دہ ٹھہرانے کی اہمیت کا عکاس ہے۔
حماس نے ستمبر 2025 میں پیلای کی سربراہی میں قائم آزاد بین الاقوامی کمیشن کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب سے متعلق کمیشن کے نتائج نے قابض افواج کی کارروائیوں کی تباہ کن نوعیت کو تسلیم کیا ہے۔
تحریک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ موجود شواہد کو قانونی کارروائیوں میں تبدیل کرے اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ حماس نے مجرموں کو سزا سے استثنا دینے کی پالیسی ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ یہ بین الاقوامی اعزاز ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب امریکہ، اسرائیلی حکام کے خلاف قانونی کارروائی روکنے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر سخت ردعمل کا اظہار کر رہا ہے اور اسے دھمکیاں دے رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ