مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے کہا ہے کہ یمن کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی حکومت کے بے بنیاد دعوے عوامی رائے کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔
المسیرہ چینل کے مطابق المشاط نے کہا کہ عوامی شعور اس سطح تک پہنچ چکا ہے کہ لوگ سعودی حکومت کی اصل حقیقت کو سمجھ چکے ہیں؛ ایسی حکومت جو امت مسلمہ کی دولت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ کعبہ، قرآن کریم اور حرمین شریفین کی بے حرمتی کرتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی عوام اسلامی مقدسات سے گہری عقیدت اور ایمان رکھتے ہیں اور جس طرح انہوں نے تیسرے مقدس حرم مسجد الاقصیٰ کے دفاع میں جنگ کی، اسی طرح مقدس الہی گھر کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو بھی تیار ہیں۔ یمنی عوام قرآن کریم، پیغمبر اسلام، مکہ مکرمہ یا مسجد الاقصیٰ کی کسی بھی توہین کے خلاف ہمیشہ عوامی اجتماعات میں بھرپور احتجاج کرتے رہے ہیں۔
المشاط نے مزید کہا کہ سعودی حکومت کو اس وقت امت مسلمہ کو متحرک کرنا چاہیے تھا جب ٹرمپ نے کعبہ کی توہین کی اور اس کی ایسی تصویر پیش کی جو اس کی تقدس اور مقام کے شایان شان نہیں تھی۔ جس شخص کو کعبہ کا غلاف تحفے میں دیا گیا، وہی اب مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدسات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے جھوٹ اب عرب اور مسلم عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے، جس طرح بین الاقوامی بحری جہاز رانی کو لاحق خطرے سے متعلق اس کے سابقہ دعوے بھی عوام کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔
اس سے قبل انصار اللہ کے سیاسی دفتر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی حکومت کی جانب سے الزامات کی تکرار اس کی اس ناکامی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ یمن کے خلاف جاری جارحیت اور محاصرے کے حوالے سے رائے عامہ کو قائل نہیں کرسکی۔
بیان میں کہا گیا کہ مکہ مکرمہ اور دیگر اسلامی مقدسات تمام مسلمانوں، خصوصا یمنی عوام کے نزدیک انتہائی بلند اور عظیم مقام رکھتے ہیں اور سعودی حکومت مکہ مکرمہ کے احترام اور اسلامی مقدسات کی تکریم میں یمنی عوام سے بڑھ کر ہونے کا دعوی نہیں کرسکتی۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ مکہ مکرمہ کی حرمت کو وہی شخص پامال کرتا ہے جو اپنی جارحانہ جنگوں میں اس کے مقدس مقام کا غلط استعمال کرے اور صہیونی یہودیوں کا استقبال، تفریحی تقریبات اور اخلاقی فساد کے ذریعے اسے آلودہ کرے۔
آپ کا تبصرہ