4 ستمبر، 2026، 8:16 AM

صہیونی حکومت کا غزہ سے 18 لاکھ فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کا منصوبہ

صہیونی حکومت کا غزہ سے 18 لاکھ فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کا منصوبہ

صہیونی وزیر نے تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزہ سے دوسرے ممالک منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے فلسطینیوں کو قبول کرنے والے ممالک کو مالی ادائیگی کی جائے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے غزہ کی پٹی میں مقیم تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو دوسرے ممالک منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

بن گویر نے اس منصوبے کو جدائی 710 کا نام دیا ہے، جس کے تحت غزہ کے تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو دیگر ممالک منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

بن گویر نے دعوی کیا کہ بعض ممالک فلسطینیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور غزہ کے بہت سے رہائشی بھی اس علاقے سے نکلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ فلسطینیوں کی منتقلی انہیں کسی نامعلوم مقام پر چھوڑنے کی صورت میں نہیں ہوگی بلکہ انہیں پہلے سے طے شدہ ممالک میں منتقل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق منتقلی کے دوران خاندانوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی نے مزید کہا کہ اسرائیل ان ممالک کو فلسطینیوں کو قبول کرنے کے عوض مالی رقم ادا کرے گا۔

بن گویر نے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ایک الگ وزارت قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق اس وزارت کے لیے ایک وزیر اور ایک ڈائریکٹر مقرر کیا جائے گا، جبکہ اسرائیل خود اس منصوبے کے عملی نفاذ کی براہِ راست نگرانی کرے گا۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے میں غزہ کی بڑی تعداد میں فلسطینی آبادی کو بیرونِ غزہ منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جسے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

News ID 1941115

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha