مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ ہم واحد ملک ہیں جو عالمی منڈیوں میں توانائی کی مسلسل فراہمی کی ضمانت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ اس وقت پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی تجارتی جہازوں پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ اگر ہم آبنائے ہرمز میں بحری جہازرانی کا تحفظ نہ کریں تو کوئی اور فریق یہ کام نہیں کرے گا اور ہمیں توانائی کے ایک تباہ کن عالمی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران پر حملہ اس لیے کیا کہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے اور ہم نے یہ اقدام تجارتی جہازرانی کے تحفظ اور عالمی توانائی کے بحران کو روکنے کے لیے کیا۔
وینس نے حقیقت کے بالکل برعکس ایک دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی روز بروز اپنی صلاحیتیں کھوتے جا رہے ہیں۔ ہم جنگی کاروائیوں میں شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، نہ کبھی ایسا کریں گے اور نہ ہی اس سے پہلے کبھی ایسا کیا ہے۔
ٹرمپ کے نائب نے مزید کہا کہ ہم ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں، تاکہ اسے تجارتی جہازوں پر فائرنگ سے روکا جا سکے اور ہم جانتے ہیں کہ ایران یہ کوشش جاری رکھے گا۔ جب تک ایران جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتا، ہم اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ اس وقت ہم بڑی تعداد میں بحری جہازوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں عالمی توانائی کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سچ کہوں تو اگر ہماری کوششیں نہ ہوتیں تو پٹرول کی قیمت بہت ہی زیادہ ہو سکتی تھی۔
انہوں نے امریکی استکباری اور استعماری رویے کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب امریکہ کی بدولت 15 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزر کر گیا۔ ایران کے خلاف استعمال کے لیے تمام آپشنز میز پر ہیں، جن میں اقتصادی، فوجی اور سفارتی دباؤ کے ساتھ ساتھ خفیہ کاروائیاں بھی شامل ہیں۔ ہمارے پاس بہت سے ذرائع موجود ہیں اور صدر ان میں سے بعض کو ایران کے خلاف استعمال کریں گے۔
وینس نے یہ بھی کہا کہ جنگ اور اس کی مدت کے حوالے سے، مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ صورتحال کو جنگ قرار دینا درست ہوگا۔
ٹرمپ کے نائب نے اپنے دعوؤں کے تسلسل میں مزید کہا کہ ہم خطے سے نکل سکتے ہیں، لیکن خلیج فارس کے ممالک ہم سے کہتے ہیں: یہ ممکنہ طور پر سب سے بدترین واقعہ ہوگا۔
انہوں نے اپنے ایک اور گستاخانہ بیان میں کہا کہ میرا اسلامی جمہوریہ کے حکام کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے پاگل پن پر مبنی رویے سے باز آ جائیں اور تجارتی جہازوں پر فائرنگ سے گریز کریں۔
ایک صحافی نے جب وینس سے پوچھا کہ ٹرمپ کے مطابق ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے؟ تو جواب دیا: میں اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا۔ ہم صرف ایران کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ جہازوں کو بچایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ