مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے دفاعی حملے صرف فوجی اہداف کے خلاف تھے اور قطر کی سرکاری رپورٹ بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں قطر کی جانب سے بین الاقوامی مواصلاتی یونین میں جمع کرائی گئی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قطر نے اپنی سرکاری دستاویز میں تصدیق کی ہے کہ ایران کے دفاعی حملے قطر میں موجود امریکی افواج کے خلاف تھے اور ان کا ہدف صرف امریکی فوجی تنصیبات تھیں، جبکہ کسی بھی غیر فوجی علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
بقائی نے کہا کہ قطر کی دستاویز میں صرف 18 مارچ کو ایک گیس تنصیب پر حملے کو استثنا قرار دیا گیا ہے، تاہم ان کے بقول اس معاملے میں بھی یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ مذکورہ تنصیب اس وقت ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو رہی تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کی جانب سے اہداف کے انتخاب میں اختیار کی گئی احتیاط اور فوجی تنصیبات تک حملوں کو محدود رکھنے کے اس طرزِ عمل کا موازنہ امریکہ کی کارروائیوں سے کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے متعدد حملوں میں عام شہریوں اور غیر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے جن میں اسکول، اسپتال، رہائشی علاقے، شادی کی تقریبات اور پل شامل ہیں۔
بقائی نے کہا کہ دونوں طرزعمل میں واضح فرق موجود ہے اور ایک طرف ایسا معاشرہ ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی انسانی اور اخلاقی اصولوں کی پابندی کو اہمیت دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے جنگ پسند حکمران ہیں جو طاقت کے اظہار کے دوران قانونی اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتے۔
آپ کا تبصرہ