4 ستمبر، 2026، 9:57 AM

کم بجٹ اور اسپیئر پارٹس کی کمی؛ صہیونی فوج کی کئی ٹینک بٹالین غیر فعال

کم بجٹ اور اسپیئر پارٹس کی کمی؛ صہیونی فوج کی کئی ٹینک بٹالین غیر فعال

اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ مالی بحران کے باعث ٹینکوں کے پرزہ جات اور گولہ بارود کی فراہمی متاثر ہوئی جبکہ لبنان میں تباہ ہونے والی سیکڑوں بکتر بند گاڑیاں بھی تاحال مرمت طلب ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی فوج کو بڑھتے ہوئے مالی بحران اور اسپیئر پارٹس کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں فوج کی کئی ٹینک یونٹس کو غیر اعلانیہ طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، اسرائیلی نشریاتی ادارے کان نے اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے بجٹ میں بڑھتی ہوئی کمی نے فوجی سازوسامان کے لیے اسپیئر پارٹس کی فراہمی کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث فوجی کمانڈروں کو بعض بکتر بند یونٹس بند کرنا پڑی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فوج کا مالی بحران براہِ راست اس کی فوجی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج مختلف محاذوں پر جنگی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور ایسے میں مالی مشکلات نے اس کی آپریشنل تیاری کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

اسرائیلی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مالی بحران کے باعث البیت سسٹمز کو آنے والے دنوں میں مرکاوا ٹینکوں کے گولے بنانے والی پیداواری لائن بند کرنا پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ توپ خانے کے گولہ بارود کی پیداواری لائن اکتوبر جبکہ اس کے بعد مارٹر گولوں کی پیداواری لائن نومبر میں بند ہوسکتی ہے۔

اسرائیلی فوجی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پیداواری لائنوں کی بندش سے نہ صرف ماہر افرادی قوت اور مشینری ضائع ہونے کا خطرہ ہے بلکہ برسوں میں جمع ہونے والی فنی مہارت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث مستقبل میں ان پیداواری لائنوں کو دوبارہ فعال کرنا مشکل ہوگا۔

کان کی رپورٹ کے مطابق پیداواری بحران کے ساتھ ساتھ اسپیئر پارٹس کی کمی نے اسرائیلی فوج کی متعدد ٹینک بٹالین کو غیر فعال کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ لبنان میں جنگ کے دوران نقصان پہنچنے والی سیکڑوں بکتر بند گاڑیاں تاحال سروس سے باہر ہیں اور انہیں دوبارہ آپریشنل حالت میں نہیں لایا جا سکا۔ اس صورتحال سے جنگی علاقوں میں فوجیوں کی نقل و حمل کی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کان نیوز کو بتایا کہ ہم فوجی صنعتوں کے 15 ارب شیکل سے زیادہ کے مقروض ہیں۔

عہدیدار کے مطابق ٹینک بٹالین کو اسپیئر پارٹس کی کمی کا سامنا ہے جبکہ لبنان میں تباہ ہونے والی سیکڑوں گاڑیوں کی مرمت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فوج کے پاس فوجیوں کی نقل و حمل کے لیے بھی کافی صلاحیت موجود نہیں۔

یہ مالی بحران اسرائیل میں فوجی بجٹ میں اضافے کے معاملے پر جاری اختلافات کے دوران سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا 2026 کا ابتدائی بجٹ تقریباً 143 ارب شیکل مقرر کیا گیا تھا، تاہم ایران کے ساتھ جنگ اور لبنان میں جنگ کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر اسے بڑھا کر 183 ارب شیکل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس اضافی رقم کی پہلی قسط کے طور پر 15 ارب شیکل اگست میں منتقل کیے جانے تھے، تاہم یہ رقم تاحال منتقل نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مالی کمیٹی میں صرف 11 ارب شیکل منتقل کرنے پر غور متوقع ہے، جس کے نتیجے میں فوج کی ضروریات اور عملی طور پر فراہم کیے جانے والے بجٹ کے درمیان نمایاں مالی خلا برقرار رہے گا۔

اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ بجٹ کی کمی اب اس کی آپریشنل تیاری اور بیک وقت متعدد محاذوں پر جنگ کی تیاری و انتظام کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔

مالی بحران کے اثرات صرف جنگی یونٹس تک محدود نہیں رہے بلکہ اسرائیلی فوج کے فوجی انٹیلی جنس شعبے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

کان کی رپورٹ کے مطابق بعض انٹیلی جنس یونٹس میں کلاؤڈ اسٹوریج کی گنجائش مکمل ہو چکی ہے، جس کے باعث نئی فائلوں کے لیے جگہ بنانے کی خاطر بعض انٹیلی جنس ڈیٹا حذف کرنا پڑ رہا ہے۔

کچھ دیگر معاملات میں اسٹوریج کی محدود گنجائش کے باعث نئی معلومات، جن میں سیٹلائٹ تصاویر بھی شامل ہیں، فراہم نہیں کی جا رہیں۔

اسی دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بجٹ کی کمی کے باعث فوجی انٹیلی جنس کے مستقل عملے کے درجنوں اہلکاروں کے معاہدے ختم کرکے انہیں رخصت کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی اخبار معاریو نے بھی فوج کے مالی بحران کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے۔ اخبار کے مطابق بحران کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیلی وزارت خزانہ اور فوج کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

وزارت خزانہ نے فوج کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور غلط ہیں۔ وزارت کے مطابق طے شدہ بجٹ ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل منتقل کیا جا چکا ہے اور اب مالی، خارجہ امور اور دفاعی کمیٹیوں کی منظوری کا انتظار ہے۔

وزارت خزانہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران اسرائیل کا فوجی بجٹ تقریباً تین گنا ہو چکا ہے۔ وزارت کے مطابق موجودہ صورتحال کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش دراصل عوام کے سامنے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

اسرائیلی مالی حکام نے کہا کہ موجودہ معاملہ محض اعداد و شمار سے متعلق ایک تکنیکی اختلاف نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین ساختی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق بجٹ کی مطلوبہ رقم کی عدم منتقلی اس کی مغربی کنارے، غزہ اور لبنان میں کارروائیوں کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کے لیے تیاری بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر مطلوبہ بجٹ منتقل نہ کیا گیا تو فوج کے لیے کم از کم بنیادی سطح کی آپریشنل سرگرمی اور فوجی تیاری برقرار رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی بحران کے اثرات اب ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی مرمت، اسپیئر پارٹس کی فراہمی، گولہ بارود کی پیداوار، ماہر افرادی قوت اور انٹیلی جنس ڈیٹا کے ذخیرے اور تجزیے تک پھیل چکے ہیں، جس پر اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں مستقبل کی فوجی تیاری کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔

News ID 1941117

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha