مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ نے ایک بار پھر ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر مذاکرات کا آغاز کریں۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے پریس بریفنگ کے دوران خطے میں کشیدگی کے آغاز کو چھ ماہ مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سنجیدہ اور مؤثر مذاکرات میں شامل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسلسل تنازع میں شامل فریقوں اور ثالثی کرنے والے ممالک سے رابطے میں ہیں۔ اقوام متحدہ قطر، پاکستان، مصر، سعودی عرب اور کویت سمیت دوست ممالک کی جانب سے پائیدار امن کے لیے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے جاری کشیدگی کے انسانی اور اقتصادی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور خوراک و توانائی کی عالمی فراہمی میں خلل ان ممالک کی معیشتوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے جو اقتصادی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کے باوجود خطے کی صورتحال پیچیدہ ہے اور تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ اس سے قبل کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت تک پہنچے تھے، تاہم اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ واشنگٹن کی جانب سے وعدوں پر عمل نہ کرنے کے باعث یہ عمل متاثر ہوا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے ژاں آرنو بھی سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ