25 اگست، 2026، 8:14 PM

ٹرمپ کی بے بسی ٹرمپ کی زبانی؛ جنوبی کوریا ایران کے خلاف ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ نہیں ہوا

ٹرمپ کی بے بسی ٹرمپ کی زبانی؛ جنوبی کوریا ایران کے خلاف ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ نہیں ہوا

امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر سیئول پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی کوریا ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوا۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایران کے خلاف اپنی مہنگی جارحیت کے باعث متعدد مشکلات سے دوچار ہیں اور اب کسی دوسرے ملک کے ساتھ محاذ آرائی کی پوزیشن میں نہیں، نے شمالی کوریا کے معاملے میں بظاہر دوستانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی صدر نے آج اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے انتہائی اچھے تعلقات کے پیشِ نظر وہ اس بات سے خوش نہیں تھے کہ امریکہ نے بہت عرصہ قبل جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ فوجی مشقیں نہ صرف بہت مہنگی ہیں اور ہمیشہ کی طرح ان کے بیشتر اخراجات امریکہ برداشت کرتا ہے، بلکہ وہ ایسے ملک کو ایک انتہائی نامناسب اور جارحانہ پیغام بھی دیتی ہیں جس نے ڈونلڈ جے ٹرمپ کی پوری صدارت کے دوران غیر دھمکی آمیز اور احترام پر مبنی رویہ اختیار کیے رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے اور اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ان فوجی مشقوں کو منسوخ کرنے کے لیے اب بہت دیر ہو چکی تھی، میں نے وزیرِ دفاع (جنگ) پیت ہگستھ کو ہدایت دی کہ ان مشترکہ فوجی مشقوں کی سطح میں نمایاں کمی کی جائے۔

ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جانب اپنے بظاہر دوستانہ رویے کی اصل وجہ بھی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ شاید اس کا اس معاملے سے براہِ راست تعلق نہ ہو، لیکن میں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملے میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہیں گے؟
ان کا جواب تھا: نہیں، شکریہ!

News ID 1940879

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha