مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمیتری مدودف نے کہا ہے کہ روس مغربی ممالک کے تجارتی جہازوں کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کرسکتا ہے جس طرح یورپی ممالک روس کے شیڈو فلیٹ سے منسلک جہازوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔
مدودف نے کہا کہ روس کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر کسی دشمن ملک سے تعلق رکھنے والے تجارتی جہاز کے یوکرین کے لیے سامان لے جانے کے بارے میں کافی شواہد موجود ہوں تو اسے نشانہ بنائے، چاہے یہ جہاز بین الاقوامی یا غیر جانب دار پانیوں میں ہی کیوں نہ سفر کر رہا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی مسلح افواج اپنی کارروائیوں کو بحیرہ اسود سے آگے بھی پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
مدودف کے یہ بیانات روس کے شیڈو فلیٹ سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ مغربی ممالک روس کے اس بحری بیڑے پر تیل کی برآمدات سے متعلق پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ روسی تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے یا ضبط کرنے کی کسی بھی کوشش کا ماسکو کی جانب سے جوابی کارروائی کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ