مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی نے کہا ہے کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں بدامنی کا بنیادی ذمہ دار امریکہ ہے۔ جب تک امریکہ اپنا رویہ تبدیل اور ایران کی شرائط قبول نہیں کرتا، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔
محسن رضایی نے ایران میں چین کے سفیر سے ملاقات کے دوران ایران اور چین کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم مستحکم اور تعمیری تعلقات کو اہم قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اسٹریٹجک معاہدہ موجود ہے، جبکہ ایران اور چین شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے اہم بین الاقوامی معاہدوں اور تنظیموں میں بھی شریک ہیں، جو مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے جنگ رمضان کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پیش کی جانے والی غیر قانونی قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر چین کے مؤقف کو مثبت قرار دیا۔
رضایی نے کہا کہ امریکہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں بدامنی پیدا کر رہا ہے اور ایران پر غیر قانونی جنگ مسلط کرکے اس نے پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو جنگ ختم کرنا ہوگی، ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنا ہوں گے اور لبنان، غزہ سمیت پورے خطے میں جنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ایران کی دیگر شرائط بھی ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی جاچکی ہیں۔
محسن رضایی نے واضح کیا کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے راستے سے متعلق کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ معاملہ آبنائے ہرمز کی بندش سے الگ ہوگا۔ دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے نہیں جوڑا جاسکتا۔
ملاقات میں چین کے سفیر زونگ پی وو نے محسن رضایی کو قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔
چینی سفیر نے ایران کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایران اور چین کو اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملے کی مخالفت کرتا ہے۔
زونگ پی وو کے مطابق چینی صدر نے مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے چار نکاتی اقدام بھی پیش کیا ہے۔
چینی سفیر نے ایران کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران طاقت کے ساتھ تدبر اور حکمت بھی رکھتا ہے اور موجودہ حالات کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین ہمیشہ مغربی ایشیا میں تعلقات کے فروغ اور خلیج فارس کے ممالک کے درمیان تعاون اور روابط مضبوط بنانے کا خیرمقدم کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ