مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں پولٹری کی صنعت کو آنگارا بیماری سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ نئی ویکسین متعارف کرا دی گئی ہے۔ یہ ویکسین ایران میں گردش کرنے والے ایڈینو وائرس کی مقامی اقسام کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے اور تجربات میں اس کی مؤثریت 90 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جهاددانشگاهی کے قیام کی 46ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں ایران میں گردش کرنے والے وائرس کی اقسام کی بنیاد پر آنگارا HHS اور IBH پولٹری کی غیر فعال ویکسین کی تیاری کے منصوبے کی رونمائی کی گئی۔ تقریب میں صدر مسعود پزشکیان، اعلی حکام، وزرائے سائنس و صحت، صوبائی گورنروں اور جهاددانشگاهی کے اعلی عہدیداروں نے شرکت کی۔
یہ منصوبہ جهاددانشگاهی کے ابن سینا انسٹی ٹیوٹ برائے جدید حیاتیاتی علوم نے محمود جدی تہرانی اور علیرضا فراست کی نگرانی میں دو سال کے دوران مکمل کیا۔ منصوبے میں مهدی شعبانی، حنانه گلشاهی، امیرمهدی سروستانی، وحید سلیمی اور فرزانه نوتاش حقیقت نے بھی تعاون کیا۔
منصوبے کے سربراہ محمود جدی تہرانی نے بتایا کہ آنگارا پرندوں میں ایڈینو وائرس سے پیدا ہونے والی ایک وائرل بیماری ہے، جو چند ہی دنوں میں ایک مرغی خانے کے تمام چوزوں اور مرغیوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے نمٹنے کا بنیادی طریقہ پولٹری کی ویکسینیشن ہے، اس لیے مؤثر ویکسین کی دستیابی بیماری پر قابو پانے اور مرغی کے گوشت کی پیداوار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس سے قبل آنگارا کے خلاف استعمال ہونے والی ویکسین درآمد کی جاتی تھی اور اس پر بڑی مقدار میں زرمبادلہ خرچ ہوتا تھا۔ تاہم درآمدی ویکسین میں استعمال ہونے والے وائرس کی اقسام اور ایران میں گردش کرنے والی اقسام کے درمیان فرق کے باعث اس کی بیماری سے بچاؤ کی مؤثریت تقریباً 30 فیصد تک محدود تھی، جس سے ملک کو نمایاں اقتصادی نقصان کا سامنا تھا اور غذائی تحفظ بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا تھا۔
نئی مقامی ویکسین ایران میں گردش کرنے والے ایڈینو وائرس کی مقامی اقسام 4، 8 اور 11 کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تجربات میں اس ویکسین کی مؤثریت 90 فیصد سے زیادہ رہی، جس سے آنگارا بیماری پر قابو پانے اور مرغی کی پیداوار میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اس ویکسین کی تیاری کے لیے ملک میں متاثرہ مرغیوں کے نمونوں سے ایڈینو وائرس کی مقامی اقسام 4، 8 اور 11 کو الگ کرکے خالص کیا گیا اور پھر وائرس کو غیر فعال کرکے تینوں اقسام پر مشتمل ابتدائی ویکسین تیار کی گئی۔ اس کے بعد ویکسین صحت مند چوزوں کو دی گئی اور دو ہفتے بعد انہیں زندہ وائرس سے متاثر کیا گیا۔
آزمائش کے نتائج کے مطابق مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین نے 90 فیصد سے زیادہ چوزوں کو زندہ وائرس کے مقابلے میں تحفظ فراہم کیا، جبکہ وہ چوزے جنہیں ویکسین نہیں دی گئی تھی، تجربے کے دوران ہلاک ہوگئے۔
ماہرین کے مطابق اس ویکسین کی تیاری سے نہ صرف آنگارا بیماری پر قابو پانے کے لیے ملک کو ایک مقامی صلاحیت حاصل ہوئی ہے بلکہ درآمدی ویکسین پر انحصار اور زرمبادلہ کے اخراج میں بھی کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ مقامی ویکسین میں بیرون ملک برآمد اور زرمبادلہ کمانے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔
اس منصوبے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ویکسین ایران میں گردش کرنے والے حقیقی وائرس کی اقسام کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے اور اس کی تیاری کی ٹیکنالوجی کو ملک میں بیماری کی مقامی صورتحال کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ جهاددانشگاهی کے مطابق یہ ملک میں گردش کرنے والے وائرس کی اقسام کی بنیاد پر تیار ہونے والی پہلی مقامی حیوانی ویکسین ہے۔
اس ویکسین کے ممکنہ صارفین ملک بھر کے تمام مرغی خانے ہیں، اس لیے اس منصوبے کو قومی سطح کا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، جو آنگارا بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے، مرغی کی صنعت کے تحفظ، گوشت کی پیداوار برقرار رکھنے اور غذائی تحفظ کے استحکام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ