2 اگست، 2026، 7:33 PM

جارحانہ پالیسیوں کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا، یمنی ماہر کی سعودی عرب کو وارننگ

جارحانہ پالیسیوں کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا، یمنی ماہر کی سعودی عرب کو وارننگ

یمنی عسکری ماہر مجیب شمسان کا کہنا ہے کہ اگر ریاض نے یمن کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسیوں اور محاصرے کا سلسلہ جاری رکھا تو صنعاء کے پاس کشیدگی بڑھانے اور سعودی معیشت کو مزید نقصان پہنچانے کے متعدد آپشنز موجود ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر مجیب شمسان نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق مجیب شمسان نے ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمنی مسلح افواج کی جانب سے سعودی عرب پر بحری محاصرہ عائد کرنے کا فیصلہ امن کے تمام مواقع ختم ہونے کے بعد ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ اگر جارحیت اور محاصرہ جاری رہا تو صنعاء کے پاس کشیدگی میں مزید اضافے کے لیے کئی مؤثر آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اقدام کی کامیابی غیر متوقع نہیں، کیونکہ ماضی کی کامیاب فوجی کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ صنعاء کی جانب سے دی جانے والی تنبیہات محض بیانات نہیں بلکہ عملی صلاحیتوں پر مبنی ہیں۔ یمنی افواج نے دنیا کے طاقتور ترین بحری بیڑوں کا مقابلہ کرکے زمینی حقائق تبدیل کرنے کی اپنی صلاحیت بھی ثابت کی ہے۔

مجیب شمسان نے کہا کہ بحری محاصرے کے باعث سعودی بحری جہاز اب افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ایشیائی منڈیوں تک پہنچنے کا دورانیہ 20 سے 24 دن کے بجائے 50 دن یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، جبکہ اس سے سفری اخراجات اور آپریشنل خطرات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس آرامکو اور بحری کمپنیوں کے تقریباً 109 آئل ٹینکرز سمیت مجموعی طور پر 433 بحری جہاز موجود ہیں، اس لیے بحری محاصرہ سعودی معیشت پر مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ ثابت ہوسکتا ہے۔

یمنی ماہر نے واضح کیا کہ باب المندب کی آبنائے تمام ممالک کے جہازوں کے لیے کھلی ہے اور یمن کا فیصلہ صرف سعودی بحری جہازوں تک محدود ہے، جبکہ بین الاقوامی جہازرانی کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، امریکہ کی طرز پر یمن کے اقدامات کو عالمی جہازرانی کے لیے خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ صنعاء نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ انتہائی درست معلومات اور اعلیٰ عسکری صلاحیت کی بنیاد پر مخصوص اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔

مجیب شمسان نے امریکی بحری اتحاد کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں 40 ممالک کی شمولیت کا دعوی کیا گیا تھا، لیکن بعد میں یہ تعداد کم ہو گئی اور آخرکار امریکہ اور برطانیہ نے اعتراف کیا کہ وہ یمنی افواج کا تنہا سامنا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس ایسی بحری صلاحیت موجود نہیں جو اس قسم کی مہم کو دہرا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے اہداف کی فہرست میں سعودی عرب کی اہم اور حساس تنصیبات شامل ہیں۔ جیزان میں آرامکو کی تنصیبات، ینبع اور مشرق۔مغرب آئل پائپ لائن پر ماضی کے حملے صرف ابتدائی مثالیں تھیں، جبکہ اس سے زیادہ حساس اہداف بھی یمنی افواج کی دسترس میں ہیں۔

یمنی عسکری ماہر نے کہا کہ مستقبل میں صنعاء تیل کی برآمد کے متبادل راستوں کو بھی نشانہ بنانے جیسے مزید اقدامات کر سکتا ہے۔ ان کے بقول اس وقت سعودی عرب کے پاس مؤثر دباؤ ڈالنے کے ذرائع محدود ہیں، جبکہ صنعاء اب بھی میدان میں پہل اور متعدد عملی آپشنز اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔

News ID 1940521

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha