29 جولائی، 2026، 8:06 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ؛

نتن یاہو کا ہنگامی دورہ واشنگٹن؛ طِفل کُش وزیر اعظم جنگ کے نتائج سے خوفزدہ کیوں؟

نتن یاہو کا ہنگامی دورہ واشنگٹن؛ طِفل کُش وزیر اعظم جنگ کے نتائج سے خوفزدہ کیوں؟

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور اس کے ممکنہ نتائج نے صہیونی قیادت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس نے نتن یاہو کو واشنگٹن میں امریکی جنگی فیصلہ سازوں سے ہنگامی ملاقات پر مجبور کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: صہیونی وزیراعظم نتن یاہو کا اچانک واشنگٹن پہنچنا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسٹ سے مشترکہ ملاقات محض ایک معمول کا سفارتی دورہ نہیں سمجھا جارہا۔ اس ہنگامی ملاقات کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے جو معمول سے زیادہ طویل ہوتی جا رہی ہے۔ 

جنگ میں درپیش یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی فوجی ادارے ایران کے خلاف جنگ میں مطلوبہ یا حتی کہ کسی حد تک قابل قبول نتائج حاصل کرنے میں ناکام اور مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی صورتحال اسرائیل اور شخصی طور پر نتن یاہو کی بڑھتی ہوئی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔ نتن یاہو اور صہیونی قیادت کو خدشہ ہے کہ جنگ کا انجام ایسے مختلف ممکنہ منظرناموں کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، جن میں ہر ایک ایران کے لیے اسٹریٹجک کامیابی جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ناکامی یا کم از کم سنگین نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

بغیر معاہدہ اختتام

صہیونی قیادت کو سب سے پہلے اس بات کا خدشہ ہے کہ جنگ کسی سیاسی یا عسکری معاہدے کے بغیر ہی ختم ہوجائے۔ ایسی صورت میں آبنائے ہرمز ایران کی اسٹریٹجک فتح کی سب سے بڑی علامت بن جائے گی اور اسلامی جمہوری ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا مستقل کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ دوسری جانب ایران کا بحری محاصرہ، جو درحقیقت اقتصادی پابندیوں کا تسلسل ہے، ایک کمزور، غیر مستقل اور غیر مؤثر دباؤ ثابت ہوگا۔ اس منظرنامے میں ایران واضح اسٹریٹجک کامیابی حاصل کرے گا، جبکہ امریکہ کے حصے میں صرف ایک محدود اور ناپائیدار حربی کامیابی آئے گی۔

مذاکرات کی میز پر واپسی

دوسرا ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ میں شامل فریق اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت اختلافات کے حل کے لیے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ اس کے نتیجے میں یا تو ایران اور لبنان کے خلاف جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان ہوگا اور ایران اپنے جوہری پروگرام پر غیر واضح نتائج کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہوگا، یا پھر جنگ کے خاتمے کے بدلے صرف سیاسی بات چیت کا راستہ کھلے گا۔ اس صورت میں بھی ایران کو واضح اور اسٹریٹجک فائدہ حاصل ہوگا، کیونکہ اس کا بنیادی مطالبہ، یعنی جنگ کا خاتمہ پورا ہوجائے گا، جبکہ امریکہ کا حاصل محدود، کمزور اور غیر یقینی رہے گا۔

غیر یقینی صورتحال کا تسلسل

تیسرا اور زیادہ ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف محدود اور پیچیدہ کارروائیاں جاری رکھیں۔ اس دوران ایران ٹائم پاس کرنے کے عنصر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرے، جبکہ اس کے یمنی اتحادی بحیرۂ احمر میں بھی مستقل اثر و رسوخ یا کنٹرول حاصل کر لیں۔ اس صورت میں بھی ایران اپنی اسٹریٹجک برتری برقرار رکھے گا، جبکہ امریکہ اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں کرتا رہے گا لیکن کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔ ایسی کیفیت میں ایران ایک ایسا طاقتور تزویراتی ہتھیار حاصل کرلے گا جس کے ذریعے وہ دشمن کے ساتھ کسی نئی مفاہمت کے بغیر بھی اسلام آباد مفاہمت میں درج اپنے تمام مطالبات کو مرحلہ وار عملی جامہ پہنا سکے گا۔

اسرائیل کی بڑھتی تشویش

یہی ممکنہ نتائج اسرائیل کے لیے سب سے بڑی تشویش بن چکے ہیں، کیونکہ یہ تمام منظرنامے اسرائیل کے اس بنیادی منصوبے سے متصادم ہیں جس کا مقصد کئی جنگوں اور تین سالہ سخت کشیدگی کے بعد اپنی سیاسی اور سلامتی کی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ اگر جنگ مذکورہ کسی بھی رخ پر آگے بڑھتی ہے تو اسرائیل کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں نہ صرف صہیونی حکومت بلکہ خود نتن یاہو اور ان کی جماعت کو بھی آئندہ اکتوبر کے انتخابات میں یقینی شکست ہوسکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی میڈیا، عسکری، انٹیلی جنس اور سیاسی حلقوں میں ہونے والے تجزیے بھی اسی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگر جنگ موجودہ سمت میں آگے بڑھتی رہی تو اس کا اختتام مکمل طور پر ایران کے حق میں ہوسکتا ہے۔ یہی خدشہ نتن یاہو کے ہنگامی دورۂ واشنگٹن کی اصل وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

News ID 1940482

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha