مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی روزنامہ گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی وزارت دفاع کو ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج کے جانی و مالی نقصانات سے متعلق معلومات کو دانستہ طور پر محدود کرنے کے الزامات کا سامنا ہے، جس پر امریکی میڈیا میں شدید بحث جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کے سابق وزیر دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے پینٹاگون کے طرز عمل کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو جنگ کی حقیقی قیمت سے آگاہ کرنے کی پابند ہے، مگر وزارت دفاع تقریباً ڈھائی ماہ سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ پریس کانفرنس نہیں کر رہی۔
گارڈین کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ پینٹاگون نے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل عوامی ردعمل کے خدشے کے باعث جنگ سے متعلق معلومات کے بہاؤ کو محدود کر دیا ہے، جسے میڈیا پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے اور روزانہ فوجی کارروائیوں کی بحالی کے بعد تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس سے طویل اور مہنگی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لامتناہی جنگوں سے گریز کے انتخابی وعدوں سے متصادم قرار دی جا رہی ہے۔
اخبار کے مطابق دستیاب اعداد و شمار میں 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم الزام ہے کہ پینٹاگون نے ان اعداد و شمار کی تصدیق اس وقت کی جب یہ معلومات پہلے ہی سوشل میڈیا پر سامنے آ چکی تھیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ جنگی اخراجات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور انسانی نقصانات عوامی حمایت میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں اور اس کے سیاسی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔
گارڈین کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع نے میڈیا پر مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے بعض بڑے میڈیا اداروں کو پینٹاگون میں دی گئی سہولیات سے محروم کیا ہے، جبکہ صحافیوں کی عمارت کے اندر نقل و حرکت بھی سرکاری اہلکاروں کی نگرانی سے مشروط کر دی گئی ہے۔
رپورٹ میں جنگ کے معاشی بوجھ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پر اب تک دسیوں ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ کانگریس میں واضح حکمت عملی کے بغیر اضافی فنڈز کے مطالبات پر حکومت کو بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر لیون پنیٹا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معلومات کو محدود کرنے سے حقیقت کو وقتی طور پر چھپایا جا سکتا ہے، مگر اسے ہمیشہ کے لیے نہیں روکا جاسکتا، کیونکہ صحافت کا کام حقائق کو سامنے لانا ہے اور وہ بالآخر حقیقت آشکار ہوکر رہتی ہے۔
آپ کا تبصرہ