مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں تنظیم کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، داخلی امور میں عدم مداخلت، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ پر زور دیا۔
اعلامیے میں سیاسی، سیکورٹی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے، دہشت گردی، انتہا پسندی، منظم بین الاقوامی جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی خطرات، خصوصاً انٹیلیجنس سیکورٹی کو لاحق خطرات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔
علاقائی اور بین الاقوامی امور سے متعلق اعلامیے میں مشرق وسطی اور ایران کے گرد و نواح کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی حملوں کی مذمت سے متعلق تنظیم کے سابقہ مؤقف کی توثیق کی گئی اور ایسے اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے ایران کے عوام اور حکومت سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حملوں میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔
اعلامیے میں بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے، یکطرفہ پابندیوں اور جبر پر مبنی اقدامات کی مخالفت، عالمی اقتصادی نظم میں اصلاحات، کثیرالجہتی تجارتی نظام کے فروغ، ماحولیاتی تعاون، ڈیجیٹل معیشت، انٹیلیجنس سیکورٹی اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس کے دوران ایران نے مختلف دستاویزات کی تیاری میں فعال کردار ادا کیا۔ ایرانی تجاویز کی بنیاد پر پرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت سے متعلق شق شامل کی گئی، جبکہ بعض ممالک کی جانب سے رکن ریاستوں کے سرکاری اداروں کو بدنام کرنے کی کوششوں کی مخالفت بھی اعلامیے کا حصہ بنائی گئی۔
اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اجلاس سے خطاب کے علاوہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں اقتصادی، تجارتی، ٹرانزٹ، توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون سمیت اہم باہمی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں 25 سے زائد قراردادیں اور خصوصی دستاویزات منظور کی گئیں، جنہیں تنظیم کی حالیہ برسوں کی اہم ترین پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ