24 جولائی، 2026، 2:56 PM

مشرق وسطی میں میزائل ذخائر میں کمی پر امریکہ تشویش میں مبتلا

مشرق وسطی میں میزائل ذخائر میں کمی پر امریکہ تشویش میں مبتلا

امریکی فوجی حکام کے مطابق انٹرسیپٹر میزائلوں اور گائیڈڈ ہتھیاروں کے تیزی سے استعمال نے ٹرمپ انتظامیہ کی تشویش بڑھا دی، جبکہ بحرالکاہل میں ممکنہ تنازع کے لیے تیاریوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوجی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ مشرق وسطی میں انٹرسیپٹر میزائلوں اور گائیڈڈ ہتھیاروں کے تیزی سے استعمال نے ٹرمپ انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

المیادین کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے فوجی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خطے میں دفاعی میزائلوں اور ہدایت یافتہ ہتھیاروں کے مسلسل استعمال کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس پر واشنگٹن کو شدید تشویش لاحق ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورت حال نے بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں کسی ممکنہ فوجی تصادم کی صورت میں امریکہ کی دفاعی تیاریوں کے بارے میں بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق انٹرسیپٹر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر میں کمی امریکی قیادت کے لیے ایک حساس مسئلہ بن چکی ہے۔

ادھر نیویارک پوسٹ نے بھی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ تجزیہ کار کئی ماہ سے خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ اور یوکرین کو مسلسل فوجی امداد فراہم کرنے کے نتیجے میں امریکہ کے میزائل اور دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی ذخائر میں کمی کے خطرات اس وقت نمایاں ہوئے جب پینٹاگون نے بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر سے اپنے بعض فوجیوں کو نکال کر اردن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ واشنگٹن کے نزدیک اردن نسبتاً محفوظ مقام تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے ایران کے جوابی حملوں میں اردن اہم ہدف بن گیا، جس کے نتیجے میں وہاں تعینات تین امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔

News ID 1940428

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha