19 جولائی، 2026، 9:50 PM

ایران پر حملے اور یمن کے محاصرے کے بعد خطہ بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے، انصار اللہ کا انتباہ

ایران پر حملے اور یمن کے محاصرے کے بعد خطہ بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے، انصار اللہ کا انتباہ

انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا کہ امریکا معاہدوں کا پابند نہیں رہا اور ایران پر حملوں اور یمن کے محاصرے کے باعث خطہ سنگین کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن عبداللہ النعمی نے کہا ہے کہ امریکا معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا اور یہ بات متعدد جنگوں میں ثابت ہو چکی ہے، جبکہ ایران پر حملوں اور یمن کے محاصرے کے باعث پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی جانب بڑھ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عبداللہ النعمی نے المیادین سے گفتگو میں کہا کہ اگر خطے میں جنگ بھڑک اٹھی تو اس کا سب سے بڑا نقصان امریکا کو ہوگا۔  اسرائیل نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ایسے متعدد اہم اہداف موجود ہیں جو یمنی مسلح افواج کی پہنچ میں ہیں۔ یمن محاصرہ ختم کرانے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے اور خطہ انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

النعمی نے کہا کہ یمن اپنے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے اور اگر امریکا اور سعودی عرب نے یمن کے خلاف جنگ چھیڑی تو انہیں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمتی محور کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور اس محاذ پر جدوجہد مشترک ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعا ہوائی اڈہ تمام ممالک کی پروازوں کے لیے کھلا ہوگا اور اگر سعودی عرب نے اس حوالے سے کوئی اقدام کیا تو اس سے پورا خطہ مزید کشیدگی کا شکار ہوگا۔ صنعا آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والی کسی بھی پرواز کے خلاف کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

عبداللہ النعمی نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے انصار اللہ کو مالی مراعات اور یمن میں اس کے دائرہ اثر میں توسیع سمیت مختلف تجاویز پیش کیں، تاہم انصار اللہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گی اور اس کے پاس مختلف متبادل راستے موجود ہیں۔

News ID 1940372

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha