مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوگا، اور امریکی نمائندوں کا قطر کا دورہ ایرانی وفد کے دورے سے کسی بھی طرح متعلق نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے سے متعلق یادداشت تفاہم پر عمل درآمد کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران کی موجودہ ترجیح یادداشتِ تفاہم کی تمام شقوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، اور ایران اس سلسلے میں اپنے مطالبات کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بقائی نے بتایا کہ شق 10 کے تحت امریکہ نے تیل کی فروخت کے لیے ضروری اجازت نامے جاری کر دیے ہیں اور ان پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ شق 11 کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی کا عمل بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے رواں ہفتے ایرانی ماہرین کا ایک وفد دوحہ روانہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یادداشتِ تفاہم کی شق 13 کے مطابق حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک شق 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہو کر تسلسل کے ساتھ جاری نہیں رہتا۔
بقائی نے اس بات کی بھی تردید کی کہ امریکی نمائندوں کے دوحہ پہنچنے کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق ہے، اور واضح کیا کہ ایرانی وفد صرف یادداشتِ تفاہم پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے قطر جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ