مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں رہبر شہید انقلاب اور فراجا کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی شیرازی نے کہا کہ شہداء کی یاد اور ان کے راستے کو زندہ رکھنا ہماری شرعی اور قومی ذمہ داری ہے اور اس نوعیت کی تقریبات اسی ذمہ داری کی ادائیگی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تقریبات صرف تہران تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں فراجا کے زیر اہتمام رہبر شہید انقلاب اور پولیس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہیں۔
علی شیرازی نے مسلح افواج کی تیاری کے حوالے سے کہا کہ ایران درحقیقت کبھی بھی جنگی میدان سے باہر نہیں نکلا۔ بارہ روزہ جنگ سے پہلے بھی ملک مختلف محاذوں پر سرگرم تھا اور اگرچہ بظاہر جنگ بندی کی بات کی جا رہی ہے، لیکن حقیقت میں مکمل جنگ بندی کبھی موجود نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ کبھی یہ محاذ آرائی لفظی جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور کبھی براہ راست عسکری تصادم کی شکل میں سامنے آتی ہے، تاہم یہ صورتحال ایرانی قوم کے لیے نئی نہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی اور جنگ مزید دس سال بھی جاری رہی تو ایران پوری تیاری کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دوران محدود وسائل کے باوجود بعثی حکومت کا مقابلہ کیا، جبکہ آج ملک کے پاس جدید میزائل، ڈرونز اور جدید دفاعی سازوسامان موجود ہے، اس لیے دشمن کو دوبارہ ایران کو آزمانے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔
علی شیرازی نے کہا کہ رہبر شہید کی شہادت کے بعد دشمن کا مقصد عوام کو انقلاب سے دور کرنا تھا، لیکن اس کے برعکس عوام نے بڑی تعداد میں تشییع جنازے میں شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ وہ اسلام، انقلاب اور ولایت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دشمن دوبارہ ایسی "اسٹریٹجک غلطی" کرے گا تو اسلامی انقلاب کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی پوزیشن مزید کمزور ہوگی۔
آپ کا تبصرہ