مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی پرامن جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے انسپکٹروں کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں کی اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں متاثر ہونے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے کوئی پروگرام نہیں بنایا گیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایسے معائنے کے لیے کوئی پروٹوکول یا طریقۂ کار موجود نہیں، تاہم ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے موجودہ طریقہ کار پر عمل جاری رکھے گا۔
انہوں نے ایران میں جوہری مذاکرات کے دوبارہ آغاز اور آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق امریکی دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ترجمان نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی حالیہ قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے بقول ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا اور امریکہ و یورپی ممالک کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے روس، چین اور نائجر کی جانب سے قرارداد کی مخالفت کو ذمہ دارانہ مؤقف قرار دیا، جبکہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے دوہرے معیار ناقابلِ قبول ہیں۔
ایران کے منجمد اثاثوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ غیر منجمد ہونے والے فنڈز کے استعمال کا فیصلہ ایران خود کرے گا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کے بقول اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کے حتمی انتظامات جلد متوقع ہیں، جبکہ امریکہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل کو جنوبی لبنان پر حملے بند کرنے پر مجبور کرے۔
آپ کا تبصرہ