مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: صہیونی ذرائع ابلاغ گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل کے لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام، جسے "ماگین اور" اور "اور ایتان" کے نام سے جانا جاتا ہے، کو فضائی دفاع میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا دعوی تھا کہ یہ نظام محض چند ڈالر کی لاگت سے دشمن کے میزائل، راکٹ اور ڈرون تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی دفاعی استعداد تقریباً لامحدود ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگوں کے تجربات نے اس وسیع تشہیر اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح فرق کو آشکار کر دیا ہے۔ خود صہیونی ذرائع نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس نظام کی عملی کارکردگی ان دعووں سے کہیں کم رہی ہے۔
کم لاگت کا دعوی
اس نظام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آئرن ڈوم کے مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کے بجائے لیزر شعاع استعمال کرتا ہے، جس کی توانائی پر آنے والی لاگت چند ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتی۔
صہیونی اخبار "کالکالسٹ" کے فوجی امور کے رپورٹر یووال آزولائے نے 4 جون 2025 کو دعویٰ کیا تھا کہ ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے مطابق لیزر سے ایک ہدف کو نشانہ بنانے کی لاگت صرف چند شیکل ہے، جبکہ آئرن ڈوم کے ذریعے ایک میزائل کو روکنے پر دسیوں ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لیزر شعاع سال کے تقریباً 90 فیصد دنوں میں استعمال کی جا سکتی ہے اور اس نظام کو تقریباً 10 کلومیٹر تک مؤثر کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کا امتحان
صہیونی تجزیہ کار عودید یارون نے جولائی 2026 میں لکھا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اس نظام کے لیے سب سے بڑا امتحان ثابت ہوئی، جہاں یہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں مؤثر کردار ادا نہ کر سکا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے آج تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس نظام نے کتنے اہداف کو نشانہ بنایا، اس کی کامیابی کی شرح کیا رہی اور اسے کن علاقوں کے دفاع پر تعینات کیا گیا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق اگرچہ "اور ایتان" کو "حیتس" اور "تھاڈ" جیسے طویل فاصلے کے دفاعی نظاموں کا متبادل نہیں بنایا گیا، تاہم جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف لیزر کے ذریعے اسرائیل کے فضائی دفاع کا بحران حل ہونے کا دعوی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ڈرونز کے خلاف بھی خاموشی
صہیونی اخبار "گلوبس" کے صحافی آساف غلعاد نے مارچ 2026 میں سوال اٹھایا کہ نیا لیزر دفاعی نظام عملی میدان سے کیوں غائب دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شمالی محاذ پر کشیدگی کے دوران درجنوں ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے، لیکن اسرائیلی فوج نے ان کی تباہی میں لیزر نظام کے کردار سے متعلق کوئی معلومات جاری نہیں کیں۔
گلوبس کے مطابق اگرچہ اس نظام کا آزمائشی مرحلہ ستمبر 2025 میں مکمل ہوا اور سال کے آخر میں اسے عملی طور پر فوج کے حوالے کر دیا گیا، تاہم بیک وقت حملوں یا مختلف موسمی حالات میں اس کی کارکردگی کے بارے میں کوئی مستند اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔
تکنیکی رکاوٹیں
اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز (INSS) کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فضا سے گزرتے وقت لیزر شعاع اپنی طاقت کا ایک حصہ کھو دیتی ہے اور نمی، گردوغبار، دھواں، دھند اور بادل اس کی مؤثریت کو متاثر کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق لیزر کو مؤثر کارروائی کے لیے ہدف پر مسلسل اور درست انداز میں مرکوز رکھنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ فاصلے میں اضافے یا ہدف کی زیادہ رفتار کے باعث یہ عمل مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ استعمال ہونے والی بجلی کا صرف تقریباً 30 فیصد حصہ لیزر شعاع میں تبدیل ہوتا ہے، جبکہ باقی توانائی حرارت کی صورت میں خارج ہوتی ہے، جس کے لیے بڑے اور پیچیدہ کولنگ سسٹمز درکار ہوتے ہیں۔
حقیقی چیلنجز
رپورٹ کے مطابق لیزر نظام ایک وقت میں صرف ایک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس لیے بڑی تعداد میں ڈرونز یا بیک وقت ہونے والے حملوں کے دوران اس کی صلاحیت محدود ہوجاتی ہے، جب تک کہ بڑی تعداد میں ایسے نظام ایک ساتھ نصب نہ کیے جائیں۔
اسی طرح "چند ڈالر میں دفاع" کا دعوی صرف لیزر شعاع کی توانائی تک محدود ہے، جبکہ مکمل نظام میں ریڈار، رہنمائی، کولنگ، بجلی، افرادی قوت، دیکھ بھال اور حفاظتی انفراسٹرکچر جیسے اخراجات شامل نہیں کیے جاتے۔
گلوبس کے مطابق ایک لیزر نظام کی قیمت دسیوں ملین شیکل تک پہنچتی ہے، جبکہ مقبوضہ علاقوں کے لیے مؤثر دفاعی نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے اربوں شیکل کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
مبالغہ آمیز دعوے
اسرائیلی فضائی دفاع کے سابق کمانڈر ریزرو بریگیڈیئر جنرل ران کوچاو نے کہا کہ اگرچہ لیزر ٹیکنالوجی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اسے ایسا معجزاتی حل قرار دینا درست نہیں جو ایک ہی رات میں تمام فضائی دفاعی مسائل ختم کر دے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے میں یہ نظام مختصر فاصلے، سازگار موسمی حالات اور نسبتاً سست رفتار اہداف، خصوصاً ڈرونز، کے خلاف زیادہ مؤثر ہے، جبکہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں جیسے طویل فاصلے کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت اس کے پاس موجود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق "ماگین اور" منصوبے کی تکمیل میں لیزر فوکس، کولنگ، موسمی رکاوٹوں اور بجٹ سے متعلق مسائل کے باعث 15 سے 20 سال لگ گئے، جبکہ بار بار تاخیر نے اس نظام کی حقیقی جنگی صلاحیت کے بارے میں اب بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ کا تبصرہ