مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں قالیباف نے کہا کہ امریکہ کا رویہ مسلسل تضادات کا شکار ہے، جہاں ایک جانب بڑے حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور دوسری جانب اچانک مذاکرات کی بات شروع کر دی جاتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ پہلے بڑے حملے کی بات کی جاتی ہے، پھر اچانک مذاکرات کی پیشکش سامنے آ جاتی ہے۔ یہ ایک دہرایا جانے والا سیاسی ڈراما ہے۔
قالیباف نے کہا کہ دباؤ ڈالنے کے لیے دھونس، وعدہ خلافی اور جعلی خبروں کا سہارا لینا واشنگٹن کی ناکام پالیسی کا حصہ بن چکا ہے، جو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فریقِ مقابل کو حقائق تسلیم کرتے ہوئے اپنی سابقہ ذمہ داریوں اور وعدوں پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ کھوکھلی دھمکیاں اور بار بار مؤقف تبدیل کرنا مسائل کا حل نہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ دھونس، ٹوٹے ہوئے وعدے اور جھوٹا پروپیگنڈا ایک ناکام پالیسی ثابت ہو چکے ہیں۔ حقائق کو تسلیم کریں اور اپنے وعدے پورے کریں، مزید سیاسی تماشوں کی ضرورت نہیں۔
آپ کا تبصرہ