مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے گئے افسران میں صہیونی بدنام زمانہ ایجنسی موساد کے شعبۂ انٹیلی جنس کے سربراہ اور ایران ڈیسک کے سربراہ شامل ہیں، جنہوں نے ایران میں نظام کی تبدیلی کے منصوبے کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گوفمن اور ان افسران کے درمیان ابتدا ہی سے اختلافات موجود تھے، تاہم ان کی برطرفی وسیع تنظیمی اصلاحات اور موساد کی ازسرِ نو تشکیل کے عمل کا حصہ بھی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق دونوں عہدیدار مکمل طور پر ادارے سے الگ نہیں ہوں گے بلکہ امکان ہے کہ انہیں موساد کے اندر دیگر ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق صہیونی آرمی چیف گادی آئزنکوٹ بھی حال ہی میں ایران کے خلاف جنگ کو بے مقصد قرار دیتے ہوئے یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
آپ کا تبصرہ