4 اگست، 2026، 5:05 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

اربعین؛ دنیا کا سب سے بڑا پرامن اجتماع، عشق حسینؑ، ایثار اور انسانیت کا عالمی پیغام

اربعین؛ دنیا کا سب سے بڑا پرامن اجتماع، عشق حسینؑ، ایثار اور انسانیت کا عالمی پیغام

ہر سال کروڑوں زائرین نجف سے کربلا تک پیدل سفر کر کے امام حسینؑ کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، جبکہ موکبوں کی بے مثال خدمت، مذہبی ہم آہنگی اور ظلم کے خلاف استقامت اربعین کو عالمی سطح پر منفرد بناتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: اربعین حسینی دنیا کا سب سے بڑا پُرامن مذہبی و انسانی اجتماع ہے، جس میں ہر سال کروڑوں افراد عراق پہنچ کر امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں کی زیارت کرتے ہیں۔ یہ عظیم اجتماع واقعۂ کربلا کے چالیس روز بعد، اسلامی مہینے صفر کی 20 تاریخ کو منعقد ہوتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔

اربعین کے موقع پر زائرین نجف اشرف سے کربلائے معلی تک تقریبا 80 کلومیٹر کا پیدل سفر کرتے ہیں۔ یہ سفر محبت، وفاداری، ایثار، صبر اور باہمی یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جس میں لاکھوں افراد شدید گرمی، طویل مسافت اور دیگر مشکلات برداشت کرتے ہوئے اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہیں۔

کربلا درس ایثار و استقامت

امام حسینؑ نے 680 عیسوی میں ظلم و جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی حق، انصاف، آزادی، شجاعت اور انسانی وقار کی ایسی مثال بن گئی جس نے صدیوں سے دنیا بھر کے انسانوں کو متاثر کیا ہے۔

نجف سے کربلا تک جانے والے راستے پر ہزاروں موکب قائم کیے جاتے ہیں، جہاں رضاکار بلا امتیاز تمام زائرین کو مفت کھانا، پانی، رہائش، طبی سہولیات اور دیگر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ یہ موکب سخاوت، بے لوث خدمت اور انسان دوستی کی ایسی مثال پیش کرتے ہیں جس کی نظیر دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔

اربعین یعنی تجدید عہد

لفظ "اربعین" کے معنی چالیس ہیں اور یہ ایام سوگ کے اختتام کی علامت ہے، تاہم یہ اجتماع صرف سوگواری تک محدود نہیں بلکہ امام حسینؑ کے اصولوں، یعنی حق، عدل، آزادی، قربانی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے عہد کی تجدید بھی ہے۔

اربعین کی ایک اہم خصوصیت اس کی ہمہ گیر اور جامع فضا ہے، جہاں مختلف ممالک، زبانوں، ثقافتوں اور حتیٰ کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ اجتماع باہمی احترام، مکالمے، رواداری اور انسانی اخوت کو فروغ دیتا ہے۔

کربلا پہنچنے کے بعد زائرین امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں پر حاضری دیتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، عبادت اور خیرات کے ذریعے اپنی روحانی وابستگی کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور شہدائے کربلا سے تجدیدِ عہد کرتے ہیں۔

اربعین انسانیت سے ہمدردی کا سفر

اربعین کا سفر صرف جسمانی مشقت کا نام نہیں بلکہ روحانی تبدیلی، تزکیۂ نفس اور ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے زائرین ننگے پاؤں سفر کرتے ہیں تاکہ امام حسینؑ کی مظلومیت اور کربلا کی سختیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی اور عقیدت کا اظہار کر سکیں۔

یہ عظیم اجتماع ایثار، وحدت، محبت، ظلم کے خلاف مزاحمت اور انسانیت کی خدمت کی اعلیٰ اقدار کا عملی مظہر ہے۔ کروڑوں زائرین کا پُرامن انداز میں ایک جگہ جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ امام حسینؑ کا پیغام آج بھی دنیا بھر کے انسانوں کو امن، انصاف، ہمدردی اور حق کے لیے ثابت قدم رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اربعین کی صدیوں پر محیط یہ روایت آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور ہر سال دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے زائرین کربلا پہنچ کر امام حسینؑ کے مشن سے اپنی وفاداری کا اعادہ کرتے ہیں، جس سے یہ اجتماع دنیا کے سب سے بڑے اور پُرامن مذہبی اجتماعات میں اپنی منفرد حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

News ID 1940543

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha