20 ستمبر، 2026، 9:07 PM

ہمیں دشمن پر ذرہ برابر بھی حسن ظن نہیں، پزشکیان

ہمیں دشمن پر ذرہ برابر بھی حسن ظن نہیں، پزشکیان

ایرانی صدرا نے کہا ہے کہ ہمیں دشمن پر کسی صورت حسنِ ظن نہیں، تاہم جب ہم کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو مردوں کی طرح اس کی پاسداری کرتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی  رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے حکومتی ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں کے پارلیمانی امور کے معاونین عوام میں آگاہی پیدا کرنے، درست بات بیان کرنے، دوستی، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کریں۔ معاشرے سے رابطہ ایک ضرورت ہے، کیونکہ اس سے عوامی ہمدلی اور تعاون میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے سرکاری اداروں سے رجوع کرنے والے شہریوں کی عزت و احترام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شہری ایسا کام کروانے کے لیے آئے جو قانونی طور پر ممکن نہ ہو تو بھی اس کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آنا چاہیے اور ہمارے لہجے میں طنز و کنایہ نہیں ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے نگران اداروں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات قانونی ذمہ داریوں کے تحت پارلیمنٹ کے ارکان اور نگران ادارے حکومت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کی تحقیقات کر سکتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔

انہوں نے موجودہ حساس حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو ملک کے استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی خدمت ہی اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کا راستہ ہے۔ ہمیں غیر ضروری باتوں سے دور رہتے ہوئے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ مسلمان کی ذمہ داری اپنے ہم نوع انسانوں کی مشکلات کا خیال رکھنا ہے۔ عوام کی معاشی صورتحال اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

پزشکیان نے ناقابلِ عمل وعدوں سے گریز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے ایسے وعدے نہیں کرنے چاہئیں جنہیں پورا نہ کیا جا سکے۔ بجٹ اور مالی وسائل کو مدنظر رکھے بغیر عوام میں توقعات پیدا کرنا درست نہیں۔ اگر کوئی عہد کریں تو اسے پورا بھی کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین نہیں بنائے جا سکتے جن کی اجرائی ضمانت نہ ہو۔ حکام کو قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں محروموں، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی حمایت کرنی چاہیے اور معاشرتی مسائل سے بے تعلق نہیں رہنا چاہیے۔

پزشکیان نے اختلافات اور جماعتی تنازعات سے گریز کو عوامی خدمت کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب کو ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے، کیونکہ بہت سے مسائل کی جڑ خودپسندی ہے۔ درست بات کو عقل مند لوگوں سے قبول کرنا چاہیے۔

انہوں نے ملک کی موجودہ حساس صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور تنازع نہیں چاہتا، کیونکہ اس کے نقصانات صرف ایران کے عوام نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہیں، تاہم ایران طاقت اور دھونس کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دشمن پر کسی صورت حسنِ ظن نہیں، لیکن اگر کوئی معاہدہ کریں گے تو مردوں کی طرح اس پر قائم رہیں گے۔

پزشکیان نے کہا کہ ہماری بنیادی ترجیح ملک کے نوجوانوں کے لیے روشن مستقبل کی تشکیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام کو مسلمانوں کے شایانِ شان عزت اور سربلندی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے، اسی لیے ایسے ہر مذاکرات کا خیرمقدم کریں گے جو پائیدار امن اور سلامتی کا باعث بنے۔

News ID 1941522

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha