مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کئی محاذوں پر رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ عدالت نے ان کا نام جان ایف کینیڈی پرفارمنگ آرٹس سینٹر میں شامل کرنے سے روک دیا، امریکی مرکزی بینک نے ٹرمپ کے دباؤ کے برخلاف شرحِ سود میں اضافہ کیا، جبکہ سپریم کورٹ نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے کی ان کی کوشش بھی روک دی۔
دوسری جانب، ایران کے خلاف امریکی جنگ، ٹرمپ کی جانب سے اپنی کارکردگی کے دفاع کی کوششوں کے باوجود، بہت سے امریکیوں میں اب بھی غیر مقبول ہے، جبکہ معیشت اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے ساتھ، ٹرمپ کے سیاسی اثر و رسوخ کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان ناکامیوں کے بعد ٹرمپ نے ایک بار پھر میڈیا کو نشانہ بنایا اور وائٹ ہاؤس نے سی این این، ایم ایس این بی سی اور پولیٹیکو کے صحافیوں کے داخلے پر پابندی نافذ کر دی۔
ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ ان اداروں کی جانب سے ’’جان بوجھ کر منفی‘‘ رپورٹس کی اشاعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی خبری کوریج تبدیل ہو جائے تو یہ پابندی ختم کی جا سکتی ہے۔
آئینی ماہرین اور شہری حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے منافی قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق اس کے ذریعے میڈیا کو اس کی رپورٹنگ کے مواد کی بنیاد پر سزا دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے میڈیا اور مخالفین کے خلاف دیگر اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں سرکاری میڈیا کی مالی معاونت میں کٹوتی اور صدر کے بارے میں منفی کوریج کرنے والے ٹی وی نیٹ ورکس پر دباؤ شامل ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے ایک سابق عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ ان اقدامات کے باعث عوامی توجہ ٹرمپ کے قیمتیں کم کرنے کے منصوبے کے بجائے میڈیا کے ساتھ ان کی کشمکش کی طرف مرکوز ہو گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ