8 اگست، 2026، 12:18 AM

معاہدۂ مکہ پر صنعا کا سخت ردعمل؛ "محاصرے کے بدلے محاصرہ" کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان

معاہدۂ مکہ پر صنعا کا سخت ردعمل؛ "محاصرے کے بدلے محاصرہ" کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان

یمن کی اعلی سیاسی قیادت، انصار اللہ اور وزارت خارجہ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن کے خلاف کسی بھی قسم کی شمولیت کو جارحیت تصور کیا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدۂ مکہ پر صنعا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے سے یمن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور "محاصرے کے بدلے محاصرہ" کی حکمت عملی اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق المسیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے کہا کہ معاہدوں کا اطلاق ماضی پر نہیں ہوتا اور معاہدۂ مکہ یمن کی موجودہ حکمت عملی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔

انہوں نے کہا کہ محاصرے کے جواب میں محاصرے کی پالیسی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اس کے مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔

المشاط نے پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ملک سعودی عرب کی جارحیت یا بارہ سال سے جاری یمن کے محاصرے میں شریک ہوگا، اسے بھی جارح تصور کیا جائے گا، خواہ اس شمولیت کو کسی بھی عنوان سے پیش کیا جائے۔

انہوں نے سعودی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ پوری دنیا کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ منصفانہ امن، حسنِ ہمسائیگی اور جنگ کے خاتمے کی قیمت مسلسل جارحیت سے کہیں کم ہے۔

دوسری جانب انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا کہ یمن اپنے خلاف بننے والے اتحادوں کی پروا کیے بغیر محاصرہ توڑنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکیہ، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کسی مسلمان ملک کے خلاف جارحیت، محاصرے یا اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے لیے سیاسی پشت پناہی فراہم نہیں کریں گے، بلکہ جارح فریق پر دباؤ ڈالیں گے تاکہ وہ اپنی کارروائیاں بند کرے۔

یمن کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ کوئی بھی علاقائی یا عالمی اتحاد یمنی عوام کے جائز حقوق سلب نہیں کر سکتا۔

وزارت کے مطابق ہر وہ اسلامی اتحاد جو فلسطین کے مسئلے کو اپنی اولین ترجیح نہ بنائے، وہ امت مسلمہ کے دشمنوں کے مفادات کی خدمت کرے گا اور ناکامی اس کا مقدر ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یمن اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہر حال میں جدوجہد جاری رکھے گا۔ وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ نئے فوجی اتحاد بنانے کے بجائے یمن کا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے، جبکہ اپنی توانائیاں فلسطینی عوام کی حمایت اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے صرف کرے۔

وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب کی جانب سے مختلف ممالک کی حمایت حاصل کرنے یا مالی وسائل خرچ کرنے سے یمن میں اس کی کارروائیوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی۔

بیان کے مطابق یمنی عوام اپنے جائز حقوق سے دستبردار ہونے کو ذلت اور رسوائی سمجھتے ہیں اور اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ 7 اگست 2026 کو مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے "معاہدۂ مکہ" کا نام دیا گیا ہے۔

News ID 1940591

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha