مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک؛ آبنائے ہرمز اب صرف تیل اور تجارت کی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ یہ خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن اور نئے علاقائی نظام کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی چالیس روزہ جنگ میں ناکامی کے بعد مغربی ایشیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حالیہ جنگ نے خطے کی پرانی سیاسی اور عسکری مساوات کو تبدیل کر دیا ہے، جس کے بعد جنگ سے پہلے والی صورتحال میں واپسی تقریباً ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نہ صرف اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ اس جنگ نے خلیجی عرب ممالک کو بھی اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔
خلیج فارس کی ریاستیں برسوں سے یہ سمجھتی رہی تھیں کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور واشنگٹن کی سکیورٹی ضمانتیں ان کے تحفظ کے لیے کافی ہیں، تاہم حالیہ جنگ نے واضح کر دیا کہ بحران کے وقت یہ بیرونی سکیورٹی نظام عملی طور پر زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
آبنائے ہرمز اب محض ایک اقتصادی گزرگاہ نہیں بلکہ خطے میں ابھرتے ہوئے نئے سیاسی و تزویراتی نظام کی علامت بن چکی ہے، جہاں علاقائی ممالک اپنی سلامتی، اتحاد اور طاقت کے توازن کے حوالے سے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
خلیج فارس میں سکیورٹی کے بدلتے تصورات
ایران کے حملوں کے دوران عرب ممالک نے یہ حقیقت محسوس کی کہ کسی بڑی جنگ کی صورت میں امریکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے حقیقی دفاع سے زیادہ اپنے مفادات کے مطابق بحران کو کنٹرول کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں سکیورٹی کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب علاقائی ممالک مقامی صلاحیتوں، باہمی تعاون اور زمینی حقائق پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ یوں جنگ کے بعد سب سے اہم تبدیلی آبنائے ہرمز کی قانونی اور سکیورٹی حیثیت میں دیکھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز طویل عرصے سے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
جنگ سے پہلے امریکہ یہ تاثر دیتا رہا کہ اس اہم آبی راستے کی سکیورٹی صرف واشنگٹن کی فوجی موجودگی کے ذریعے ہی ممکن ہے، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ آبنائے ہرمز کا انتظام دانشمندانہ انداز میں کرے گا، اور یہی بات ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی تشویش بن چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ آبنائے ہرمز کو اپنے اثر و رسوخ کا علاقہ سمجھتا تھا، جہاں امریکی بحری بیڑے موجود تھے اور واشنگٹن خود کو اس اہم آبی گزرگاہ میں محفوظ آمدورفت کا ضامن قرار دیتا تھا۔ تاہم اب ایران نے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور وہاں سے گزرنے کے قواعد کے انتظام میں تہران کا کردار ناقابلِ انکار بن چکا ہے۔
امریکی نقطۂ نظر سے یہ ایک اسٹریٹجک شکست سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ اور جنگ کی پالیسی ایران کو کمزور کرنے میں ناکام رہی، بلکہ اس کے برعکس تہران کے جغرافیائی و سیاسی کردار کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
عمان اور ایران کی قربت پر امریکہ کی تشویش
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں ٹول یا راہداری فیس وصول کرنے کے ممکنہ نظام سے متعلق خبریں سامنے آئیں۔ اس پیش رفت پر واشنگٹن نے فوری تشویش کا اظہار کیا، کیونکہ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کا مطلب ایک نئے علاقائی نظام کا آغاز ہو سکتا ہے، جہاں خطے کے ممالک امریکی ہدایات کے بجائے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کریں گے۔
امریکی حکام کے سخت ردعمل کی وجہ دراصل یہی گہری تشویش ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معمولی اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر عمان اس منصوبے پر آگے بڑھا تو عمان تباہ ہو جائے گا۔ خطے میں برسوں سے متوازن اور مغرب کے قریب سمجھے جانے والے ملک کے خلاف یہ کھلی دھمکی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن خلیج فارس میں سیاسی خودمختاری کے معمولی آثار بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
بعد ازاں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے ٹیکس یا راہداری فیس عائد کرنے کی کوشش قبول نہیں کرے گا، اور اس عمل میں براہِ راست یا بالواسطہ شامل ہر فریق کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کی جانب سے خاص طور پر عمان کا نام لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ مسقط اور تہران کے درمیان بڑھتی قربت سے کس قدر خوفزدہ ہے۔
تاہم ان دھمکیوں کا الٹا اثر ہوا اور عمانی حکومت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ عمانی اخبار الرؤیہ کے چیف ایڈیٹر حاتم الطائی نے ٹرمپ کو جنگ کے لیے ناموزوں شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دھمکیاں دراصل عرب ممالک اور صہیونی حکومت کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے منصوبے میں امریکی ناکامی کا نتیجہ ہیں۔
یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ عرب ممالک کے بااثر حلقوں میں بھی امریکی پالیسیوں کے بارے میں سوچ تبدیل ہو رہی ہے اور اب بہت سے لوگ واشنگٹن کی دھمکی آمیز اور تحقیر پر مبنی زبان برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔
خطے کی سیاست میں نئی تبدیلیوں کے آثار
بلومبرگ کے کالم نگار خاویئر بلاس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خزانہ کی براہ راست دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمان، ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے ٹول یا راہداری فیس کے نظام پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس تبصرے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ اب مغربی تجزیہ کار بھی آبنائے ہرمز میں نئے انتظامی ڈھانچے کے امکان کو سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے جغرافیے کا بنیادی حصہ ہے، اس لیے اس کی سکیورٹی، انتظام اور آمدورفت کے قوانین کو ان دونوں ممالک کے مفادات کو نظر انداز کرکے ترتیب نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ کئی برسوں تک فوجی موجودگی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے دنیا کی اہم توانائی گزرگاہوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن اب اسے ایک نئی حقیقت کا سامنا ہے، جہاں علاقائی ممالک صرف وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ امریکی دھمکیاں دراصل طاقت کے اظہار سے زیادہ خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن پر واشنگٹن کی گہری تشویش کو ظاہر کرتی ہیں۔ خطے میں اپنے منصوبوں، ایران کو محدود کرنے کی کوششوں اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے منصوبے میں ناکامی کے بعد امریکہ اب اپنے کم ہوتے اثر و رسوخ کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے دھمکیوں اور پابندیوں کی زبان واشنگٹن کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے، تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ ہتھیار اب اپنی پرانی مؤثریت کھو رہا ہے۔
حاصل سخن
خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال اس حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ جنگی طاقت، فوجی موجودگی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اپنی پالیسی مسلط کرنے کا امریکی طریقۂ کار پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی بڑھتی ہوئی گرفت اور اس اہم گزرگاہ کے سکیورٹی و انتظامی معاملات میں تہران کے مضبوط ہوتے کردار نے خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دینا شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب امریکہ کا بتدریج کم ہوتا ہوا اثر و رسوخ بھی اب زیادہ نمایاں دکھائی دے رہا ہے، جبکہ خلیج فارس اور علاقائی ممالک اپنی سلامتی اور مفادات کے حوالے سے زیادہ خودمختار اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ یہی تبدیلیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ ایک نئے علاقائی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں مقامی قوتوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ