مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز اپنی طاقت کے اظہار، ڈیٹرنس کی بحالی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے مقصد سے کیا تھا، تاہم یہ جنگ اب خود ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران بنتی جا رہی ہے۔ جو مہم امریکی طاقت کا مظہر بننے والی تھی، وہ اب سیاسی، معاشی اور سماجی اخراجات کی وجہ سے اندرون ملک شدید تنقید کا باعث بن چکی ہے۔ جنگ جتنی طول پکڑ رہی ہے، اس کے اثرات میدان جنگ سے زیادہ امریکی عوامی رائے، سیاسی فضا اور ریپبلکن پارٹی کے مستقبل پر نمایاں ہو رہے ہیں۔
مقبولیت میں تاریخی کمی
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں سو دن سے بھی کم وقت باقی ہے اور تازہ ترین سروے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد اپنی سب سے مشکل سیاسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ مبصرین اس کی بنیادی وجوہات میں ایران کے خلاف ناکام جنگ، بڑھتے معاشی مسائل اور حکومتی ترجیحات پر عوامی عدم اطمینان کو قرار دے رہے ہیں۔
کوئنی پیاک یونیورسٹی کے سروے کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مقبولیت 32 فیصد تک گر چکی ہے، جبکہ سی این این کے سروے میں یہ شرح 34 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ صرف 27 فیصد امریکیوں نے کہا کہ صدر درست مسائل پر توجہ دے رہے ہیں، جبکہ تقریبا سات میں سے دس امریکیوں کا خیال ہے کہ حکومت غلط سمت میں گامزن ہے۔
امریکی تجزیہ کار کرس ہیز کے مطابق ریپبلکن پارٹی انتخابات سے قبل ایک حقیقی بحران سے دوچار ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت اب چھ جنوری 2021 کے واقعات کے بعد کی سطح سے بھی نیچے آچکی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ایران کے خلاف جاری جنگ ہے۔
جنگ اور داخلی بحران
ٹرمپ انتظامیہ کو توقع تھی کہ ایران کے خلاف جنگ ماضی کی بعض جنگوں کی طرح عوام کو صدر کے گرد متحد کر دے گی، مگر نتیجہ اس کے برعکس سامنے آیا۔ جنگ نہ تو جلد ختم ہوئی اور نہ ہی کم خرچ ثابت ہوئی بلکہ یہ ایک طویل اور مہنگی کشمکش میں تبدیل ہوگئی، جس کے مالی اور سماجی اثرات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔
فوجی اخراجات میں اضافہ، حکومتی بجٹ پر دباؤ، جنگ کے پھیلنے کے خدشات، مسلسل جوابی حملے اور غیر یقینی مستقبل نے امریکی عوام کی بڑی تعداد کو اس جنگ کو قومی سلامتی کے بجائے اپنی معیشت پر اضافی بوجھ سمجھنے پر مجبور کردیا ہے۔
معیشت عوام کی پہلی ترجیح
جنگ کے ساتھ ساتھ مہنگائی، بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات، معاشی بے یقینی اور فوجی کارروائیوں پر اربوں ڈالر کے اخراجات بھی امریکی عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ عوام کی اکثریت اب چاہتی ہے کہ حکومت بیرونی جنگوں کے بجائے مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور اندرونی مسائل کے حل پر توجہ دے۔
اسی لیے ایران جنگ اب صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ براہ راست امریکی شہریوں کی معاشی زندگی سے جڑ چکی ہے۔
"پرچم تلے اتحاد" کی ناکام حکمت عملی
امریکی سیاست میں عمومی تصور یہ رہا ہے کہ جنگ کے دوران عوام صدر کے گرد متحد ہوجاتے ہیں، مگر ایران کے معاملے میں یہ حکمت عملی کامیاب نہ ہو سکی۔ سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ نے ٹرمپ کی مقبولیت بڑھانے کے بجائے اسے مزید کم کر دیا ہے۔
بڑی تعداد میں امریکیوں کا خیال ہے کہ حکومت جنگ کے اہداف، اس کی قیمت اور اختتام کے بارے میں کوئی واضح اور قابل قبول وضاحت دینے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث عوامی اعتماد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
ریپبلکن پارٹی پر دباؤ
ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت صرف ان کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ وسط مدتی انتخابات میں پارٹی کے امیدوار ایسے ماحول میں انتخابی مہم چلائیں گے جہاں ایران جنگ اور اس کے معاشی اثرات اہم انتخابی موضوع بن چکے ہیں۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ڈیموکریٹک پارٹی جنگ، معاشی بوجھ اور حکومت کی گرتی ہوئی مقبولیت کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا سکتی ہے، جس کے اثرات کانگریس کی آئندہ تشکیل اور حکومتی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
واشنگٹن اور جنگ کے اثرات
امریکا نے ماضی میں ہمیشہ کوشش کی کہ جنگوں کے اثرات اپنی سرزمین سے دور رکھے جائیں، مگر ایران کے خلاف حالیہ جنگ نے ثابت کیا ہے کہ بیرون ملک لڑی جانے والی جنگوں کے سیاسی اور معاشی نتائج بالآخر واشنگٹن تک پہنچتے ہیں۔ آج اس جنگ کا اہم محاذ صرف مشرق وسطی نہیں بلکہ امریکی عوامی رائے اور داخلی سیاست بھی بن چکی ہے، جہاں اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک اہم دوراہے پر کھڑے ہیں۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو سیاسی اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ کشیدگی کم کرنے یا پسپائی اختیار کرنے کی صورت میں ان کے حامی اسے انتخابی وعدوں سے انحراف قرار دے سکتے ہیں۔
تاہم حالیہ سرویز سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام اب جنگی اخراجات میں کمی اور حکومت کی مکمل توجہ اندرونی مسائل کے حل پر مرکوز دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اب صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ امریکا کی داخلی سیاست اور ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کن عنصر بنتی جا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ