مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک،سیده فائزه پاکزاد: 28 فروری کو امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت شروع کی گئی جس کے ابتدائی لمحات میں ہی رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای سمیت اعلی عسکری اور سول رہنما شہید ہوگئے۔ رہبر معظم کی شہادت کے اعلان کے بعد ایران میں مسلسل 150 شب تک جاری رہنے والے عوامی اجتماعات کو قومی یکجہتی اور مذہبی وابستگی کی عملی تعبیر قرار دیا جارہا ہے۔
بعض تاریخی واقعات کو صرف اعداد و شمار یا چند سطروں کی خبر میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسے لمحات کی اصل حقیقت عوام کے درمیان رہ کر، ان کے جذبات، آنسوؤں، امیدوں اور اجتماعی رویوں کو دیکھنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ 150 شب صرف اجتماعات، تقریبات یا مظاہروں کا سلسلہ نہیں تھا بلکہ ان لوگوں کی داستان تھی جنہوں نے تاریخ کے ایک نازک موڑ پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے میدان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
شہادت کی خبر اور عوام کا ازخود میدان میں آنا
یہ سلسلہ یکم مارچ کی سحر سے شروع ہوا، جب ٹیلی ویژن پر قائد انقلاب کی شہادت کی خبر نشر ہوئی۔ خبر سنتے ہی گھروں میں خاموشی اور سوگ کی کیفیت چھا گئی، لیکن کچھ ہی لمحوں بعد یہ اطلاع سامنے آئی کہ لوگ کسی سرکاری دعوت یا اعلان کے بغیر خودبخود تہران کے میدان انقلاب کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
اس صبح تہران کا منظر یکسر مختلف تھا۔ بوڑھے، نوجوان، خواتین، بچے اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد آنکھوں میں آنسو لیے میدان انقلاب کا رخ کر رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں قومی پرچم تھا، کوئی ذکر پڑھ رہا تھا اور کوئی مسلسل خبریں دیکھ رہا تھا۔ سب کے دلوں میں غم تھا، مگر اس سے بڑھ کر ساتھ کھڑے رہنے کا جذبہ تھا۔
اگرچہ ہر شخص کے ذہن میں ملک کے مستقبل، دشمنوں کے عزائم اور آنے والے دنوں کے بارے میں کئی سوالات تھے، لیکن ایک حقیقت سب پر واضح تھی کہ عوام نے گھروں میں بیٹھنے کے بجائے میدان میں موجود رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
کوفہ کی یاد اور وفاداری کا امتحان
ان عوامی اجتماعات کی اصل وجہ شیعہ معاشرے کا تاریخی شعور تھا۔ کوفہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ تاریخ کا ایک سبق ہے، جہاں بہت سے لوگوں نے حق کا ساتھ دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ اسی لیے "ہم اہل کوفہ نہیں" کا نعرہ صرف ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ ایک تاریخی عہد بن چکا ہے۔
اس بار عوام نے اسی تاریخی سوال کا عملی جواب دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اجتماعات ایک رات یا ایک ہفتے تک محدود نہ رہے بلکہ مسلسل جاری رہے۔ یہ منظر صرف تہران تک محدود نہیں تھا بلکہ ایران کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں بھی عوام ہر شام میدانوں، چوراہوں اور مرکزی شاہراہوں پر جمع ہوتے رہے۔ قومی پرچم ہر ہاتھ میں دکھائی دیتا تھا اور ہر طبقے کے لوگ اپنی موجودگی کے ذریعے یکجہتی کا اظہار کرتے تھے۔
بعض راتوں میں فضائی حملوں کے خطرات، دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی آوازوں کے باوجود لوگ منتشر نہیں ہوئے بلکہ وہیں کھڑے ہو کر "اللہ اکبر" کے نعرے بلند کرتے رہے، جس سے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کا اظہار ہوتا تھا۔
شب ہائے قدر، نئے رہبر کا انتخاب اور امید کی واپسی
شب ہائے قدر کے دوران سڑکیں اور شاہراہیں عبادت گاہوں میں تبدیل ہوگئیں، جہاں ہزاروں افراد نے دعائے جوشن کبیر اور دیگر عبادات میں شرکت کی۔ انہی دنوں نئے رہبر کے انتخاب کی خبر سامنے آئی، جس پر عوام نے تکبیروں اور نعروں کے ذریعے اپنے اطمینان اور اعتماد کا اظہار کیا۔
نئے رہبر کا پہلا پیغام بھی عوام کے لیے امید اور اعتماد کا ذریعہ بنا۔ لوگ اس پیغام کے مختلف حصوں پر گفتگو کرتے، اسے ایک دوسرے تک پہنچاتے اور مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کرتے رہے۔ بعد ازاں جنگ بندی کا اعلان ہوا، لیکن اس کے باوجود میدان خالی نہیں ہوئے بلکہ عوام مسلسل یہ کہتے رہے کہ "ہم اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک قیادت حکم دے گی۔"
اربعین تک جاری رہنے والا عہد وفا
بعد میں میلاد امام رضاؑ، یوم عرفہ، عید غدیر اور محرم الحرام جیسے مختلف مذہبی مواقع آئے، مگر عوامی موجودگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کبھی انہی میدانوں میں جشن منایا گیا اور کبھی عزاداری برپا ہوئی، لیکن لوگوں کا باہمی تعلق اور یکجہتی برقرار رہی۔
شہید امام خامنہ ای انقلاب کی تشییع کے بعد بھی عوامی اجتماعات کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ رہبر کے پیغام کے بعد لوگوں نے اربعین حسینیؑ کی زیارت کو شہید رہبر سے تجدیدِ عہد کا حصہ قرار دیا۔ نجف سے کربلا تک کا سفر اسی وفاداری، استقامت اور اہل بیتؑ سے وابستگی کا تسلسل ہے۔
ان 150 شب کی اصل اہمیت نہ تصاویر میں ہے اور نہ ہی شرکا کی تعداد میں، بلکہ اس سوال کے جواب میں ہے کہ امتحان کی گھڑی میں لوگ کس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان راتوں نے ثابت کیا کہ عوام نے اہل بیتؑ کی تعلیمات کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی میں زندہ رکھنے کی کوشش کی، اور یہی ان 150 شب کی سب سے بڑی میراث ہے۔
آپ کا تبصرہ