9 اپریل، 2026، 3:11 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

15 روزہ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ اور صہیونی حکومت کی وعدہ خلافیاں شروع

15 روزہ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ اور صہیونی حکومت کی وعدہ خلافیاں شروع

جنگ بندی کے اعلان کو ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ واشنگٹن اور صہیونی حکومت نے ہمیشہ کی طرح معاہدے کی بنیادی شقوں سے پیچھے ہٹنے اور نئی شرائط مسلط کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران اور امریکہ کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کے اعلان کو ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے معاہدے کی روح اور اس کے ابتدائی تعهدات سے انحراف کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک بار پھر اپنی روایتی پالیسی کے مطابق معاہدات کی ذمہ داریوں سے فرار کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی وعدہ خلافی اور شہباز شریف کی فوری جنگ بندی کی اپیل

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، جو اس جنگ بندی میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے معاہدے کے اعلان کے فورا بعد واضح طور پر کہا کہ فوری جنگ بندی لبنان اور دیگر محاذوں تمام محاذوں پر لازما نافذ ہونی چاہیے۔ شہباز شریف کا یہ موقف نہ صرف ثالثی کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ فریقین کے درمیان طے شدہ اصولوں پر فوری عملدرآمد کی ضرورت کو بھی واضح کرتا ہے۔

تاہم، جنگ بندی کے اعلان کے صرف چند گھنٹے بعد ہی خطے کے مختلف علاقوں میں سنگین خلاف ورزیاں شروع ہوگئیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مخالف فریق عملی طور پر اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ لبنان میں جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی سب سے پہلا اور واضح اقدام تھا، جس سے یہ پیغام گیا کہ اعلان شدہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور مذاکرات کے عمل کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں، اور یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ جنگ بندی کی کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب تمام فریق، خصوصا امریکہ اور صہیونی حکومت معاہدے کی روح اور تمام شقوں پر مکمل عمل کریں۔

امریکہ کا 10 نکاتی تجویز پر اختلاف اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی

امریکی صدر نے اپنی ابتدائی تقریر میں کھلے الفاظ میں کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز مذاکرات کی بنیاد ہے اور مذاکرات کا بنیادی فریم ورک اسی تجویز کی بنیاد پر تشکیل پائے گا۔ اس اعلان سے ابتدائی طور پر یہ تاثر ملا کہ امریکہ مذاکرات میں ایران کے موقف کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور ایک متوازن اور شفاف عمل کے لیے تیار ہے۔

تاہم، بعد میں امریکی حکام، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ، کے بیانات اور ردعمل نے یہ واضح کر دیا کہ واشنگٹن معاہدے کی روح اور طے شدہ اصولوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے معاہدے میں نئی شرائط اور محدودیتیں ڈالنے کی یہ کوشش مذاکرات کے عمل کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔

معاہدے کی پہلی بڑی خلاف ورزی لبنان میں جنگ بندی سے متعلق ابتدائی شق پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سامنے آئی۔ یہ وہی نکتہ تھا جس پر شہباز شریف نے زور دیا اور فوری نفاذ کو لازمی قرار دیا تھا، لیکن صہیونی حکومت نے لبنان کے مختلف علاقوں پر وسیع اور جارحانہ حملے شروع کردیے۔

مزید برآں، ٹرمپ نے PBS کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ حزب اللہ اس معاہدے میں شامل نہیں ہے۔ یہ بیان پاکستان کے اعلان اور جنگ بندی کے ابتدائی اصولوں کے ساتھ صریح تضاد رکھتا ہے اور اس سے معاہدے کے بنیادی ڈھانچے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی پالیسی جاری ہے، جس سے جنگ بندی کے پائیدار ہونے کی توقعات کمزور ہوگئی ہیں اور مذاکرات کے حقیقی نتائج کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی موقف اور معاہدے کی خلاف ورزی

سب سے اہم اور خطرناک نکتہ ایران کے جوہری افزودگی کے حق سے متعلق ہے، جو ایران کی 10 نکاتی تجویز کی چھٹی شق میں شامل تھا۔ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے دعوی کیا کہ ایرانیوں نے ابتدا میں جو 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا وہ بنیادی طور پر غیر سنجیدہ اور ناقابل قبول تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کی سرخ لکیر، یعنی ایران میں افزودگی کا خاتمہ، تبدیل نہیں ہوئی اور یہ تصور کہ ٹرمپ ایران کی خواہشات کی فہرست کو معاہدہ کے طور پر قبول کریں، مضحکہ خیز ہے۔ یہ مؤقف اس حقیقت کے بالکل برعکس ہے کہ خود ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کے وقت واضح طور پر کہا تھا کہ مذاکرات کی بنیاد ایران کے 10 نکاتی منصوبے پر رکھی جائے گی۔

یہ موقف نہ صرف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ امریکہ مذاکراتی عمل میں نئی پابندیاں، جبری شرائط اور اضافی مطالبات شامل کرنا چاہتا ہے، حالانکہ ابتدائی معاہدے میں ایران کے حقوق کو اس کے پرامن جوہری پروگرام کے دائرے میں تسلیم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

جنگ بندی کو درپیش خطرات اور مذاکرات کا مستقبل

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور صہیونی حکومت کی خلاف ورزیاں مذاکرات کے رسمی آغاز سے پہلے ہی طے شدہ بنیاد کو کمزور کررہی ہیں، اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دو ہفتے کی جنگ بندی شدید خطرے سے دوچار ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ امکان ہے کہ جنگ بندی کسی بھی لمحے ختم ہوسکتی ہے، اور خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

ان واقعات کا مرکزی پیغام واضح ہے کہ جنگ بندی صرف اسی صورت میں حقیقی اور بامعنی ہوگی جب تمام فریق، خصوصا امریکہ اور صہیونی حکومت معاہدے کے تمام نکات پر مکمل طور پر عمل کریں۔

گزشتہ روز سے اب تک کی صورتحال یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت نے ہمیشہ کی طرح معاہدات کے بعد اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی پالیسی دوبارہ اختیار کرلی ہے، جو ایک نہایت خطرناک رجحان ہے اور مذاکراتی عمل کی کامیابی کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے۔ اسی بنیاد پر مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو پاکستان میں ہفتے کے روز طے شدہ مذاکرات میں شرکت کا کوئی منطقی جواز باقی نہیں رہے گا، مگر یہ کہ ایران پوری طاقت کے ساتھ مخالف فریق کو طے شدہ تعهدات پر عملدرآمد پر مجبور کرے اور معاہدے کی روح کو محفوظ بنائے۔

حاصل سخن

موجودہ صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ بندی کی کامیابی صرف کاغذ پر نہیں بلکہ عملی پابندی اور ذمہ داری کے ثبوت پر منحصر ہے۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کی مسلسل خلاف ورزیاں اور معاہدے کی روح سے انحراف خطے میں امن کی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے اور مذاکرات کے عمل کو غیر یقینی بنا رہا ہے۔ ایران کی مضبوط اور مستحکم پالیسی، معاہدے کے نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی جدوجہد، اور ہر خلاف ورزی کا فوری اور واضح جواب دینے کی تیاری ہی اس جنگ بندی کو بامعنی اور پائیدار بناسکتی ہے۔ اگر فریقین واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں وعدوں کی پاسداری کے ساتھ فوری اور واضح عملی اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ دو ہفتے کی جنگ بندی صرف ایک عارضی و نازک دھات کی طرح ٹوٹنے کے لیے تیار رہے گی۔

News ID 1938813

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha