مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کے سنگین نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔ خط کی نقل بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
عراقچی نے خط میں واضح کیا کہ یہ حملے نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں پورا خطہ شدید تابکاری آلودگی کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے، جس کے انسانی اور ماحولیاتی اثرات انتہائی تباہ کن ہوں گے۔
عراقچی نے لکھا کہ یہ خط ان کے سابقہ مراسلے کے تسلسل میں بھیجا جا رہا ہے، تاکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی زیرنگرانی جوہری تنصیبات، خصوصاً بوشہر کے فعال جوہری بجلی گھر پر حملوں کے تسلسل کی طرف عالمی اداروں کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ بوشہر جوہری پلانٹ مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے وقف ہے اور آئی اے ای اے کے جامع حفاظتی نظام کے تحت کام کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسے غیرقانونی حملے پورے خطے کو تابکار آلودگی کے خطرے میں مبتلا کر دیتے ہیں، لہٰذا انہیں نظرانداز کرنا یا بغیر جواب چھوڑ دینا قابل قبول نہیں۔
عراقچی کے مطابق نو ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران پر دو جارحانہ جنگیں مسلط کی گئی ہیں۔ دونوں دفعہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات کو بمباری اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سلامتی کونسل، آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے نہ ان حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے اور نہ ہی ان غیرقانونی اقدامات کی کھلی مذمت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اعلیٰ حکام اب کھلے عام یہ اعلان کر رہے ہیں کہ جوہری تنصیبات بھی ان کے اہداف میں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی مستقل مشن نے واضح طور پر کہا ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر حملہ ناممکن نہیں۔ یہ لاپروائی اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے کی مسلسل خاموشی کا براہ راست نتیجہ ہے جس نے جارحین کو مزید دلیر بنا دیا ہے۔ ان غیرقانونی حملوں کے تسلسل نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، آئی اے ای اے اور اس کے حفاظتی نظام کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے خط میں 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں پر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کوئی واضح مذمت سامنے نہیں آئی۔
عراقچی کے مطابق:
1 مارچ کو نطنز جوہری تنصیب پر دو مرتبہ حملہ کیا گیا؛
17 مارچ کو بوشہر کے فعال جوہری بجلی گھر سے صرف 350 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا؛
21 مارچ کو نطنز کے کئی مقامات پر بمباری کی گئی؛
24 مارچ کو بوشہر کے گردونواح میں ایک میزائل/کواڈکاپٹر گرا؛
27 مارچ کو بوشہر جوہری پلانٹ پر تیسری مرتبہ حملہ کیا گیا؛
27 مارچ کو خنداب میں ہیوی واٹر (بھاری پانی) پلانٹ پر حملہ ہوا؛
27 مارچ کو شہید احمدی روشن یورینیم پروسیسنگ سائٹ کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
عراقچی نے کہا کہ بوشہر جیسے فعال جوہری بجلی گھر کے قریب بار بار حملے انتہائی خطرناک اور ناقابل برداشت صورتحال پیدا کر رہے ہیں کیونکہ اس سے تابکار مواد کے پھیلاؤ کا شدید خطرہ جنم لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے سلامتی کونسل کی قرارداد 487 (1981) اور آئی اے ای اے کی مختلف قراردادوں بشمول GC(XXIX)/DEC/11 اور GC(XXXIV)/RES/533 کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادی اصولوں کی بھی سنگین پامالی ہیں۔
عراقچی نے پروٹوکول اول (1977) کی دفعہ 56 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنیوا کنونشنز کے تحت جوہری بجلی گھروں سمیت خطرناک قوت رکھنے والی تنصیبات پر حملہ مکمل طور پر ممنوع ہے، کیونکہ ایسا حملہ شہری آبادی میں شدید جانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر ایسے مقامات کے قریب حملہ کرنا آئی اے ای اے کے حفاظتی نظام کی صریح خلاف ورزی ہے اور ایران کے اندر اور پورے خطے کی شہری آبادی کو بے مثال خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسی پروٹوکول کی دفعہ 55 کے مطابق جنگ میں شامل فریقین ماحول کو وسیع، طویل المدت اور شدید نقصان سے بچانے کے پابند ہیں، لیکن امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے خلیج فارس میں تابکار آلودگی، فضائی ماحول، زمینی ماحولیاتی نظام اور اہم قدرتی وسائل کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود ہے۔ یہ نقصان صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ لازماً ہمسایہ ممالک تک پھیل جائے گا، جس سے خطے کی صحتِ عامہ، ماحولیاتی توازن اور اقتصادی استحکام شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔
آپ کا تبصرہ