مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر مقبوضہ علاقوں میں داخلی اختلافات بڑھ گئے ہیں اور لبنان کی سرحد کے قریب واقع شہر کریات شمونا میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہڑتال کی گئی۔
کریات شمونا کے رہائشیوں نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے اپنی سکیورٹی اور معاشی صورتحال پر شدید مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ حزب اللہ نے انہیں دو ہزار سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔
دوسری جانب درجنوں افراد نے مقبوضہ یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور جنگ بندی کے خلاف نعرے بازی کی۔
شہر کے ایک رہائشی تالی کوہن نے ایک اسرائیلی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی غلطی ہے اور یہ انتہائی شرمناک صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ڈھائی ماہ سے بغیر آمدنی کے گھروں میں بیٹھے ہیں اور بے روزگار افراد کو کوئی تنخواہ نہیں مل رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کو ڈھائی سال گزر چکے ہیں اور پہلے سے خراب معاشی حالات مزید بگڑ گئے ہیں، جبکہ کریات شمونا کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شہر اب ویران ہو چکا ہے، جہاں نہ سڑکیں ہیں، نہ تعلیمی سہولیات، نہ ٹرانسپورٹ، نہ خوراک اور نہ ہی تفریح کا کوئی انتظام ہے، اور یہ شہر 80 نہیں بلکہ دو ہزار سال پیچھے چلا گیا ہے۔
ایک اور کاروباری شخصیت آویران سیمانا نے کہا کہ انہوں نے جنگ بندی کے بعد اپنا کاروبار دوبارہ شروع کیا تھا اور امید تھی کہ حالات معمول پر آ جائیں گے، لیکن صورتحال دوبارہ خراب ہو گئی اور دھماکے اور جنگ کا ماحول واپس آ گیا۔
ادھر اسرائیلی سیاستدان آویگدور لیبرمین نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کابینہ کی وجہ سے اسرائیل ایک کمزور ریاست بن چکا ہے، اور لبنان میں جنگ بندی نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ