19 فروری، 2026، 11:16 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کی عسکری طاقت سے متعلق امریکہ کی بڑی غلط فہمی

ایران کی عسکری طاقت سے متعلق امریکہ کی بڑی غلط فہمی

ماہرین کے مطابق واشنگٹن ایران کی حقیقی عسکری اور تزویراتی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگانے میں ناکام ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گزشتہ چند برسوں کے دوران ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کی دھمکیاں واشنگٹن کی سیاسی حکمت عملی کا ایک مستقل جزو بن چکی ہیں۔ یہ بیان بازی کبھی سخت معاشی پابندیوں اور کبھی خطے میں فوجی طاقت کے مظاہرے کے ساتھ سامنے آتی ہے، لیکن اس طرز عمل کے تزویراتی نتائج پر کم توجہ دی جاتی ہے۔

ان دھمکیوں کے تسلسل کے ذریعے امریکی حکومت درحقیقت ایک پیچیدہ اور کئی سطحوں پر مشتمل کھیل میں داخل ہو رہی ہے، جس کے قواعد صرف جدید ٹیکنالوجی یا روایتی فوجی برتری سے طے نہیں کیے جا سکتے۔

گزشتہ چار دہائیوں کے دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی نے ایران کو ایسا ملک بنا دیا ہے جس نے اپنی دفاعی اور سیکیورٹی ساخت روایتی جنگی اصولوں کے بجائے غیر متوازن دفاعی بازدار حکمت عملی پر قائم کی ہے۔ یہ ماڈل تاریخی تجربات، طویل مدتی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے مسلسل سامنا کرنے کا نتیجہ ہے۔ اس فریم ورک کے تحت ایران نے کوشش کی ہے کہ کسی بھی براہ راست تصادم کی قیمت مخالف فریق کے لیے اس قدر بڑھا دی جائے کہ حملے کا فیصلہ خود ایک پرخطر اور مہنگا انتخاب بن جائے۔

حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران نے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ تو غیر فعال کردار ہے اور نہ ہی محض علامتی ردعمل تک محدود ہے۔ تہران کی تیز، منظم اور کئی سطحوں پر مشتمل کارروائیوں نے یہ پیغام دیا کہ اس کی عملی صلاحیتیں نہ صرف برقرار ہیں بلکہ بعض شعبوں میں مزید مضبوط ہو چکی ہیں۔ اس تجربے کی اہمیت صرف کارروائیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کی حد تک نہیں، بلکہ فوری فیصلہ سازی، میدان جنگ کے نظم و نسق اور مخالف کے دفاعی نظام میں دراندازی کی صلاحیت کے مظاہرے میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ایران روایتی ماڈلز سے ہٹ کر سوچتا اور عمل کرتا ہے۔

امریکہ کو دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت سمجھا جاتا ہے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کوئی محدود یا روایتی جنگ نہیں ہوگا۔ خطے کا جغرافیہ، مغربی ایشیا کی پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال، ایران کے گرد موجود متعدد امریکی فوجی اڈے اور تہران کے وسیع علاقائی اتحادی اس مساوات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی فوجی اقدام ردعمل کے ایک ایسے سلسلے کو جنم دے سکتا ہے جسے قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔

ایران کی دفاعی حکمت عملی کی ایک نمایاں خصوصیت کم لاگت میں زیادہ خطرہ پیدا کرنے پر مبنی بازدار نظام ہے۔ یہ تصور صرف فوجی ذرائع تک محدود نہیں بلکہ میزائل طاقت، بحری صلاحیتوں، الیکٹرانک جنگ، ڈرون ٹیکنالوجی اور علاقائی روابط کے وسیع نیٹ ورک کا مجموعہ ہے۔ اس حکمت عملی کا پیغام واضح ہے: کسی بھی حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا، اور ردعمل ضروری نہیں کہ اسی سطح یا جغرافیے تک محدود ہو۔

واشنگٹن کی بار بار کی دھمکیاں دراصل عزم کا امتحان ہیں، مگر ایسا امتحان جس کے نتائج پیشگی طے نہیں کیے جا سکتے۔ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران بیرونی دباؤ کے سامنے جلد پسپائی اختیار کرنے کے بجائے اپنی بازدار صلاحیتوں میں اضافہ کرتا آیا ہے۔ تزویراتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جوں جوں دھمکیاں بڑھتی ہیں، دفاعی وسائل کی ترقی کا محرک بھی بڑھتا ہے، اور یہ عمل ایک غیر مطلوبہ مسابقت کو جنم دے سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

ایک اور اہم نکتہ جنگ کے اختتام کا ہے۔ عسکری تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ شروع کرنا اس کے مکمل کنٹرول کی ضمانت نہیں ہوتا۔ حالیہ دہائیوں میں کئی بڑی طاقتیں ایسی جنگوں میں داخل ہوئیں جنہیں وہ مختصر اور فیصلہ کن سمجھتی تھیں، مگر عملی طور پر طویل المدتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں یہ خطرہ موجود ہے کہ واشنگٹن جنگ کا آغاز تو کر دے، لیکن اس کے اختتام کے وقت اور شرائط کا تعین اس کے اختیار میں نہ رہے۔

ایران گزشتہ چار دہائیوں سے مختلف ممکنہ حالات کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ ملک کی دفاعی ساخت بحران کی صورت میں پائیداری کے اصول پر قائم ہے، یعنی ابتدائی حملے کے باوجود جواب دینے کی صلاحیت برقرار رکھنا۔ اس ڈھانچے میں تنصیبات کی تقسیم، دفاع کی مختلف سطحیں اور مختلف محاذوں پر پیش قدمی کی صلاحیت شامل ہوتی ہے۔ یہ طرز عمل مخالف فریق کے لیے حیرت کے امکانات بڑھا دیتا ہے، کیونکہ تمام صلاحیتیں نمایاں نہیں ہوتیں اور کچھ طاقتیں استعمال کے وقت تک پوشیدہ رہتی ہیں۔

دوسری جانب علاقائی ماحول بھی نہایت حساس اور نازک ہے۔ کسی بڑے تصادم کی صورت میں توانائی کی سلامتی، بحری راستوں اور عالمی معیشت کا استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ کے اتحادی بھی ایک مہنگی اور غیر یقینی جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر سکتے ہیں، جو واشنگٹن کے فیصلہ سازی کے عمل کو مزید محدود کر دے گا۔

News ID 1938151

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha