13 فروری، 2026، 10:27 AM

نیتن یاہو کی ’’غزہ امن کونسل‘‘ میں شمولیت؛ مسئلۂ فلسطین کو پسِ پشت ڈالنے کا خدشہ

نیتن یاہو کی ’’غزہ امن کونسل‘‘ میں شمولیت؛ مسئلۂ فلسطین کو پسِ پشت ڈالنے کا خدشہ

بعض سیاسی مبصرین نے غاصب صہیونی وزیرِ اعظم کی غزہ سے متعلق امن کونسل میں شمولیت کے فیصلے کو آئندہ حالات اور مسئلۂ فلسطین کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کی امن کونسل میں شمولیت کے دستاویز پر دستخط ایک ایسا قدم ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں ’’امن‘‘ اور ’’سلامتی‘‘ کے تصورات کو ازسرِنو متعین کرنے کی کوشش ہے، جو امریکہ اور قابض صہیونی ریاست کے مشترکہ مؤقف کے مطابق ترتیب دی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں فلسطینی عوام کے حقوق پر مبنی حل کو پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے۔

امن کونسل نہیں بلکہ ٹرمپ کونسل

صہیونی امور کے فلسطینی ماہر حسین الدیک نے اس حوالے سے کہا کہ یہ درحقیقت امن کونسل نہیں بلکہ ٹرمپ کونسل ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ کا مستقبل مکمل طور پر امریکہ اور صہیونیوں کے اثر و رسوخ میں دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کونسل کے قیام کا مقصد غزہ کی زمینی صورتِ حال کو ازسرِنو ترتیب دینا اور علاقے کے سماجی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جبکہ فلسطینی عوام کو عملاً فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے۔

اسرائیل کو ’’خفیہ ویٹو‘‘ کا اختیار دینے کی کوشش

دوسری جانب فلسطینی سیاسی تجزیہ کار فادی ابوبکر نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کی اس کونسل میں شمولیت دراصل تل ابیب کو غزہ کے مستقبل اور حتیٰ کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق امور پر غیر اعلانیہ ویٹو اختیار دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کونسل میں اُن شخصیات کی موجودگی، جو نام نہاد ’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ سے وابستہ رہی ہیں، اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے منصوبے کو مکمل کیا جا رہا ہے۔ امن کے تصور کو اس انداز میں ازسرِنو متعین کیا جا رہا ہے کہ اس کا محور صرف ’’سیکورٹی استحکام‘‘ ہو، نہ کہ فلسطینی قوم کے سیاسی حقوق کی تکمیل۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت دراصل جنگ کے بعد غزہ میں ایک نئے سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کے وسیع تر عمل کا حصہ ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق اس عمل نے فلسطینی خودمختاری کے مستقبل اور دو ریاستی حل کے انجام سے متعلق سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے۔

News ID 1938023

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha