12 فروری، 2026، 5:21 PM

ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، لاریجانی

ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، لاریجانی

علی لاریجانی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر فوجی حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو خطے میں اس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ اسرائیل جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

علی لاریجانی نے یہ بات بدھ کے روز قطر کے دورے کے دوران الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

انٹرویو کے ایک اور حصے میں انہوں نے کہا کہ قطر ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالثی کے حوالے سے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور اگر انہیں حقیقت پسندی اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو وہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم میزائل پروگرام کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جوہری ٹیکنالوجی کسی سے حاصل نہیں کی بلکہ اپنی اندرونی صلاحیتوں اور کوششوں سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

علی لاریجانی نے اسرائیلی وزیر اعظم کے واشنگٹن دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مذاکراتی عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور جنگ بھڑکانے کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری پروگرام کے علاوہ کسی اور موضوع پر مذاکرات نہیں ہوں گے، اور اس بات پر ایران اور امریکہ کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے اب تک کوئی واضح تجویز موصول نہیں ہوئی اور عمان میں جو کچھ ہوا وہ صرف پیغامات کا تبادلہ تھا۔

علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور خطے کے ممالک ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے حوالے سے ایران کا مؤقف مثبت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں شمولیت اختیار کر کے امریکہ نے ایک نسبتاً معقول راستہ اپنایا ہے۔

اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر روکنے پر کوئی بات نہیں ہو سکتی، کیونکہ ایران کو توانائی اور ادویات کی تیاری کے لیے اس کی ضرورت ہے۔

آخر میں علی لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل نہ صرف ایران کے خلاف سازشیں کر رہا ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی نشانہ بنا رہا ہے اور جنگ کے شعلے بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

News ID 1938012

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha