مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے عالمی اقتصادی فورم داووس کے موقع پر بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران خطے میں ایک اہم اور بااثر کردار ادا کر رہا ہے اور لبنان تہران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا خواہاں ہے، بشرطیکہ یہ تعلقات باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں پر قائم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ لبنانی حکومت کی پالیسی دو بنیادی نکات پر مرکوز ہے ریاستی اداروں میں اصلاحات اور اسلحے پر مکمل ریاستی کنٹرول۔ نواف سلام کے مطابق، 1969 کے بعد پہلی مرتبہ لبنانی ریاست نے دریائے لیطانی کے جنوب میں مکمل عملی کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ یہ عمل شمال کی طرف بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے جنوبی لبنان کی صورتحال کو اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ یک طرفہ فرسایشی جنگ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی انخلاء اور معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ایران کی داخلی صورتحال سے متعلق سوال پر انہوں نے تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ایران لبنان پر براہ راست اثر رکھنے والا ایک اہم علاقائی کھلاڑی ہے۔
انہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط مسلط کرنے کی بات درست نہیں اور اختلافات کے حل کے لیے رابطہ برقرار ہے۔
نواف سلام نے یہ بھی کہا کہ حکومت بینک ڈپازٹس کی واپسی کی اہلیت رکھتی ہے اور پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر قومی سونے کے ذخائر فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ حکومتی غیرجانبداری کی نگرانی کریں گے۔
آپ کا تبصرہ