مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت نے ہمیشہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اتحاد بین المسلمین کی ترویج پر زور دیا ہے۔ ہر سال ہفتہ وحدت کے موقع پر شیعہ و سنی اجتماعات اس یکجہتی کی عملی مثال پیش کرتے ہیں۔ قومی بحرانوں اور بیرونی دباؤ کے وقت بھی شیعہ سنی دونوں مکاتب فکر نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسرائیل کے خلاف بارہ روزہ جنگ کے دوران اہل سنت نے ملک کے نظام، فوج اور رہبر معظم کے ساتھ کھل کر یکجہتی کا اظہار کیا، جس نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ ایرانی عوام متحد ہیں۔
ایران میں شیعہ سنی اتحاد خاص طور پر سیستان و بلوچستان میں نمایاں ہے، جہاں دونوں مکاتب فکر صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں اور مذہبی و سماجی تعلقات قائم ہیں۔ یہاں کے مدارس اور مساجد میں شیعہ و سنی کے درمیان خوشگوار روابط کے عملی نمونے نظر آتے ہیں۔ مختلف مواقع پر ایک دوسرے کے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔
اسی پس منظر میں مہر نیوز نے سیستان و بلوچستان کے شہر خاش کے امام جمعہ اور مدرسہ تحفیظ القرآن حنفاء کے سرپرست مولوی عبدالستار حسین زهی سے خصوصی گفتگو کی جس میں انہوں نے شیعہ سنی اتحاد، قومی یکجہتی اور بیرونی سازشوں کے مقابلے میں عوامی بیداری پر روشنی ڈالی ہے۔
مولانا عبدالستار حسین زھی کے انٹرویو کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:
مجموعی طور پر ایران اور خصوصی طور پر سیستان و بلوچستان میں شیعہ سنی کے درمیان اتحاد کی کیا صورتحال ہے؟
الحمد للہ ایرانی عوام سب مسلمان ہیں۔ اسلام کی جڑیں مضبوط ہیں اور ملک اور حکومت دونوں اسلامی ہیں اور رہبر معظم کے ہاتھوں میں اس کی قیادت ہے۔ سیستان و بلوچستان اور دیگر صوبوں میں جہاں سنی رہتے ہیں سب دیندار ہیں۔ اسلامی جمہوری ایران کے دوسرے صوبوں کی طرح سیستان و بلوچستان میں بھی شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد بین المسلمین پایا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے میں الحمد للہ دینی مدارس اور مساجد ہیں جہاں شیعوں اور سنیوں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ہر سال ہفتہ وحدت کے موقع پر شیعہ اور سنی مساجد میں اجتماعات ہوتے ہیں اور شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔

دیگر مواقع پر بھی خصوصا اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ میں بھی اس کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہ در حقیقت ایک جنگ نہیں تھی بلکہ بیداری تھی۔ تمام صوبوں میں اہل سنت نے مکمل طور پر ایران کا ساتھ دیا۔ ملک میں قائم نظام، فوج اور رہبر معظم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ الحمد للہ یہ جو جنگ ہوئی اس سے ہمارے عوام سب بیدار ہوئے۔ دو سال پہلے ایران مخصوصا بلوچستان میں ایک مشکل ایجاد ہوئی تھی لیکن جنگ کے بعد وہ مسئلہ بھی خود بخود حل ہوگیا۔ دشمن ناکام اور مایوس ہوگئے اور ان کو یقین ہوگیا کہ ایران کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے۔ جنگ کے بعد دشمن نے اپنے عناصر بھیج دیے لیکن وہ بھی ختم ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔
دشمن کی جانب سے ایک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ایران میں اہل سنت کے لئے آزادی حاصل نہیں ہے، اس حوالے سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟
یہ مکمل جھوٹ ہے۔ ہمارے لئے مکمل آزادی ہے۔ میں سیستان و بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں۔ یہاں 7000 مساجد ہیں۔ 414 ایسی مساجد ہیں جہاں نماز جمعہ ہوتی ہے۔ یہی تو آزادی ہے۔ ہر شہر میں کئی مدارس ہیں۔ خاش میں 4 بڑے اور 10 سے 15 چھوٹے مدارس ہیں۔ ایک بڑا تبلیغی مرکز ہے۔ اسی طرح ہر شہر میں تبلیغی مراکز، مساجد اور مدارس ہیں۔ مکمل آزادی ہے الحمد للہ۔ ہفتہ وحدت کے موقع پر نکلنے والے جلوسوں میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ہمارے درمیان قومی وحدت برقرار ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شیعہ سنی ہوجائے یا سنی شیعہ ہوجائے۔ سب اپنے اپنے مذہب پر باقی رہیں اور آپس میں بھائی چارگی اور دوستی نہیں چھوڑیں۔ یہ وحدت اور بھائی چارگی ہمارے صوبے میں موجود ہے۔ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اپنا مذہب نہ چھوڑا اور دوسرے کے مذہب کو نہ چھیڑو۔ خلیفہ دوم حضرت عمر نے بیت المقدس فتح کرنے کے بعد عیسائی عبادت گاہ کا انتظام عیسائیوں کے پاس رکھنے کا حکم دیا۔ ہمارے نبی نے تلوار کے بجائے اپنے اخلاق اور کردار سے دین کو پہنچایا۔
رہبر معظم کی شخصیت اور قیادت کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟
رہبر معظم ایسے رہبر ہیں جن کے بارے میں میں اپنا نظریہ پیش کرتا ہوں۔ انقلاب اسلامی کے بعد سے اب تک روز بروز ایران کی بنیادیں مضبوط ہورہی ہیں۔ رہبر معظم انتہائی بابصیرت اور مفکر ہیں۔ جب کبھی ملکی اداروں کے درمیان تنازعات ہوتے ہیں آخر میں ان کی تدبیر کی وجہ وہ مسائل ختم ہوتے ہیں اور آپس میں صلح ہوجاتی ہے۔ بارہ روزہ جنگ میں رہبر معظم نے بہترین قیادت کی۔ اعلی فوجی کمانڈروں کو شہید کرنے کے بعد دشمن نے سمجھا تھا کہ انقلاب اسلامی ختم ہوگیا ہے لیکن رہبر معظم نے تدبیر اور دور اندیشی سے ان کے جانشین مقرر کیے اور عوام کو ایسا لگا کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔

بارہ روزہ جنگ کے دوران پاکستانی حکومت، عوام اور علماء کی جانب سے ایران کے ساتھ جو یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اسرائیلی نظام ایک یہودی نظام ہے جو کہ اسلام مخالف ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اسی طرح افغانستان اور ایران بھی مسلمان ممالک ہیں۔ یہ ان کا وظیفہ تھا کہ ہمارا ساتھ دیتے کیونکہ ہم سب کا دشمن ایک ہے جو کہ یہود ہے۔ اگر آج پاکستان ایران کا ساتھ نہ دے تو کل پاکستان کی باری آئے گی۔ پاکستان نے مسلمان ہونے کے ناتے ایران سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی عوام، حکومت اور فوج سب اسلامی ہیں۔ مسلمان کافروں کے بجائے دوسرے مسلمان کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ میں ایک جانب اسلام اور دوسری جانب کفر تھا۔ کفر کا وہی ساتھ دیتا ہے جس کو کفر سے محبت ہے۔ مسلمان کافر دشمنوں سے محبت نہیں کرتے۔ اسرائیل کے خلاف پاکستانی حکومت اور عوام نے جو موقف اختیار کیا وہ بہترین تھا۔ ہم پاکستانی فوج، عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کو مبارک باد دیتے ہیں کہ انہوں نے حق کا ساتھ دیا۔
پاکستان میں بعض لوگ اسرائیل کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، ان کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
پاکستان کے عوام، مکاتب فکر اور جماعتوں کو میرا پیغام یہی ہے کہ ہمیشہ اسلام کا ساتھ دیں۔ اسلام وہ دین ہے جو انسان کو پرامن زندگی فراہم کرتا ہے۔ خوشی دیتا ہے۔ پاکستانی عوام سے میری گزارش یہ ہے کہ جس طرح آج تک اسلام کے ساتھ رہے ہیں، آج کے بعد بھی اسلام کے ساتھ رہیں۔ ہمارے لئے بہترین دین اسلام ہے۔ اسلام کے سایے میں بھائی چارگی قائم ہوتی ہے۔ اسلام کی برکت سے باہمی تعاون اور اخوت محفوظ ہوجاتی ہے۔ اسلام اگر نہ ہو تو کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔
آپ کا تبصرہ