مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز اور مداخلت پسندانہ بیانات پر اقوام متحدہ سے باضابطہ اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک تفصیلی خط ارسال کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات ایران کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت، بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور ایک خودمختار ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی ہیں۔
ایراوانی نے خط میں واضح کیا کہ 2 جنوری 2026 کو امریکی صدر کا بیان، جس میں ایران کے خلاف مداخلت اور طاقت کے استعمال کا عندیہ دیا گیا، تشدد، بدامنی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ ’’ہم تیار ہیں اور کارروائی کے لیے بالکل تیار کھڑے ہیں‘‘ جیسے بیانات اقوامِ متحدہ کے منشور کے سراسر منافی ہیں اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ایرانی مندوب نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ یہ بیان کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف بار بار طاقت کے استعمال، فوجی حملوں اور ایران کی پرامن جوہری تنصیبات و دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ یہ تمام بیانات امریکہ کے ایک مستقل اور منظم غیرقانونی رویے کی نشاندہی کرتے ہیں جو ایک خودمختار ریاست کے خلاف کھلی جارحیت اور اندرونی معاملات میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ریاست کے اندرونی حالات کو بہانہ بنا کر بیرونی دباؤ، تشدد یا فوجی مداخلت کو جائز قرار دینا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔ ایراوانی نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 1، 4 اور 7 کے علاوہ جنرل اسمبلی کی قرارداد 2625 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ یہ دعوے ایک ایسے ملک کی جانب سے کیے جا رہے ہیں جس کا ماضی فوجی مداخلتوں، حکومتوں کی تبدیلی، غیرقانونی جنگوں اور دنیا بھر میں تباہ کن کارروائیوں سے بھرا پڑا ہے، جن کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ شہری ہلاک، ریاستیں تباہ اور دہشت گرد گروہ مضبوط ہوئے۔
خط میں امریکہ کے ایران کے خلاف تاریخی اقدامات کی تفصیل بھی بیان کی گئی، جن میں 1953 میں ڈاکٹر محمد مصدق کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت، ایران عراق جنگ کے دوران صدام حسین کی بھرپور حمایت، 1988 میں ایران ایئر کی پرواز 655 کو مار گرانا، جنرل قاسم سلیمانی کا قتل، ایرانی سائنسدانوں اور فوجی حکام کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، حالیہ برسوں میں حملے اور دہائیوں سے جاری یکطرفہ پابندیاں شامل ہیں، جنہوں نے ایرانی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو شدید نقصان پہنچایا۔
ایراوانی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امریکی صدر کے ان اشتعال انگیز بیانات کی واضح اور دوٹوک مذمت کریں، امریکہ کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کا پابند بنائیں اور طاقت کے استعمال یا دھمکیوں کو فوری طور پر بند کرانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ان بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی مندوب کے مطابق کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
آپ کا تبصرہ