23 جنوری، 2026، 10:21 PM

انسانی حقوق کے نام پر بیرونی دباؤ کے سامنے کبھی سرتسلیم خم نہیں کریں گے، ایرانی مندوب

انسانی حقوق کے نام پر بیرونی دباؤ کے سامنے کبھی سرتسلیم خم نہیں کریں گے، ایرانی مندوب

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کی آڑ میں ڈالا جانے والا دباؤ اور بیرونی مداخلت ایران کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں ایران کے مستقل مندوب علی بحرینی نے کہا ہے کہ تہران بیرونی دباؤ کے آگے کبھی سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا اور انسانی حقوق کے نام پر کی جانے والی پوشیدہ مداخلت اور جارحیت کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق، علی بحرینی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران ایران سے متعلق خصوصی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کے منتظمین اور اس کے متوقع نتائج کا ایرانی عوام کے انسانی حقوق سے کوئی حقیقی تعلق نہیں، اگر ایسا ہوتا تو وہ غیر انسانی پابندیاں عائد نہ کرتے جو ہر ایرانی شہری کے بنیادی حقوق کو پامال کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہی ممالک صہیونی حکومت کی جارحیت کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زائد ایرانی شہری شہید یا زخمی ہوئے، اور بعض حلقوں نے بے حسی کے ساتھ اسے اپنا گندا کام قرار دیا۔

بحرینی نے اجلاس میں ایک ایسے فرد کی موجودگی پر بھی تنقید کی جسے امریکی وزارتِ خارجہ کی مالی معاونت حاصل ہے، اور کہا کہ اس شخص کا ایرانی عوام سے کوئی تعلق نہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ نشست محض ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک آلہ ہے۔

ایرانی مندوب نے وضاحت کی کہ 28 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے احتجاجات کے ابتدائی مرحلے میں ایران نے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کیا اور مظاہرین سے مکالمے کے راستے کھولے، تاہم 8 سے 10 جنوری کے دوران حالات کو دانستہ طور پر منظم تشدد میں بدلا گیا، جس میں دہشت گرد حملے، سرکاری و نجی املاک کی تباہی اور شہریوں و قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مسلح حملے شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے حالیہ بدامنی سے متعلق مصدقہ اعداد و شمار باضابطہ طور پر جاری کیے، جن کے مطابق مجموعی طور پر 3 ہزار 117 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے، جن میں سے 2 ہزار 427 افراد براہِ راست دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ ان کے بقول یہ اعداد و شمار افسانہ نہیں بلکہ قومی تحقیقات اور قانونی دستاویزات کا نتیجہ ہیں۔

بحرینی نے اعلان کیا کہ ایران اس خصوصی نشست اور اس کے نتیجے میں منظور کی جانے والی کسی بھی قرارداد کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ ملک کے اندر تشدد اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود مختار اور مؤثر قومی نظام موجود ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک روز قبل ایرانی صدر نے مختلف اداروں کو ان واقعات کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے تاکہ تشدد کی جڑوں کو ختم کیا جاسکے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ احتجاج شہریوں کا فطری حق ہے اور حکومت عوام کی آواز سننے کی پابند ہے۔

ایرانی مندوب کے مطابق تمام زیر حراست افراد کے مقدمات قانون کے مطابق نمٹائے جائیں گے، اور جن افراد پر بغاوت یا تشدد سے متعلق جرائم ثابت ہوں گے، ان کے خلاف منصفانہ اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

علی بحرینی نے کہا کہ ڈھائی ہزار سالہ تہذیبی تاریخ رکھنے والی ایرانی قوم نے کبھی استعماری غلبہ قبول نہیں کیا، اور تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ایران نہ دباؤ سے جھکتا ہے اور نہ منافقت آمیز تشویش کے نام پر مسلط کی جانے والی جارحیت کو برداشت کرتا ہے۔ جنگ، پابندیوں، دہشت گردی اور مسلسل دباؤ کے باوجود ایرانی قوم متحد کھڑی ہے، اور یہی اس کی تاریخی شناخت اور اجتماعی شعور کی علامت ہے۔

بحرینی نے آخر میں کہا کہ یہ ایک تلخ طنز ہے کہ جنگی جرائم، نسل کشی اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک آج ایران کو انسانی حقوق اور سماجی حکمرانی کا درس دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے ڈرامے اب کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جرائم اور نسل کشی میں ان کی شراکت داری کھلے طور پر بے نقاب ہوچکی ہے۔

News ID 1937852

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha